ولادت امام حسن عسکری علیہ السلام

از:مرجع دینی آیت اللہ سیّد محمد حسین فضل اللہ ۔ قدس سرہ

خاندان نبوت کے گھرانے کی ایک ممتاز ہستی اور سلسلۂ امامت کی گیارہویں کری حضرت امام حسن عسکری ؑ ہیں۔ آپ ؑ نے اپنی جوانی کے آغاز ہی سے اسلام کی تبلیغ کرنے، اسلامی ثقافت کو عام کرنے اور لوگوں کی تربیت کرنے کا بیڑا اُٹھایا۔ عالم اسلام کے بڑے علماء اس بات کے معترف ہیں کہ آپ ؑ علوم اہل بیت ؑ کا سرچشمہ ہیں جو قرآن و سنت رسول ؐ کے بحر بیکراں سے پھوٹتے تھے۔ امام حسن عسکری ؑ کی ولادت 10 ربیع الثانی 232ھ کو ہوئی۔ آپ ؑ نے اپنے علم، اخلاق، اسلامی اقدار اور معنویت سے ایک زمانے کو معطر کیا جس کی بدولت پورا اسلامی معاشرہ حتیٰ کہ اہل بیت ؑ کے دشمن اور عباسی خلافت کے حامی بھی آپ ؑ کا احترام کرتے اور آپ ؑ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھی۔
وزیر مملکت عبد اللہ بن خاقان کے بیٹے احمد کے بیان سے آپ ؑ کی عظمت و رفعت کا اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’میں سامرا کے علویوں میں امام حسن عسکری ؑ جیسے کسی شخص کو جانتا پہچانتا نہیں ہوں جس کو لوگ صداقت، شرافت، سخاوت اور عفت میں ان کے اہل بیت ؑ ‘ بنی ہاشم یا خلیفہ کے گھرانے کے کسی فرد کو آپ ؑ کے ہم پلہ مانتے ہوں بلکہ لوگ ان کے اہل بیت ؑ ‘ کے نمایاں افراد سے بھی ان کو افضل جانتے ہیں۔ اس کے ساتھ فوجی افسروں‘ وزیروں‘ منشیوں اور دوسرے لوگوں کا بھی یہی خیال ہے۔ چنانچہ میں نے جب کبھی ان کے بارے میں بنی ہاشم کے لوگوں، فوجی افسروں، منشیوں، قاضیوں، فقیہوں اور عوام سے پوچھا تو یہی دیکھا کہ ان کے دلوں میں امام حسن عسکری ؑ کی عظمت و جلالت بیٹھی ہوئی ہے۔ وہ اچھے الفاظ میں ان کا ذکر کرتے ہیں اور ان کو اہل بیت ؑ کے دیگر تمام افراد سے افضل سمجھتے ہیں حتیٰ کہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ دوست دشمن سب ان کی تعریف کرتے ہیں۔ وہ مزید کہتا ہے کہ میرے والد عبد اللہ بن کاقان کہتے تھے کہ اگر خلافت بنی عباس کے ہاتھ سے نکل جائے تو پھر امام حسن عسکری ؑ کی قابلیت پاکدامنی، سیر چشمی، تقویٰ ، زہد، عبادت اور اُن کے حسن اخلاق کی وجہ سے بنی ہاشم میں سے ان کے علاوہ کوئی اس کا حق دار نہ ہوگا۔
عباسی خلیفہ کے وزیر کی زبانی آپ ؑ کی تعریف آپ ؑ کی فضیلت کا منہ بولتا ثبوت ہے بقول شاعر :
وَالْفَضْلُ مَا شَھِدَتْ بِہِ الْاَعْدَاءُ۔ ’’فضیلت یہ ہے کہ جس کی گواہی دشمن دے۔‘‘ (ارشاد القلوب ج ۲، ص ۲۱۰)
بنی عباس کے خلفاء لوگوں میں ائمہ اہل بیت ؑ کی ہر دلعزیزی اور ان کے لیے محبت و احترام دیکھ کر ہمیشہ خائف رہتے تھے کہ کہیں وہ ان سے حکومت چھین نہ لیں۔ یہی وجہ تھی کہ عباسی خلیفہ نے آپ ؑ کو قید کردیا مگر امام عالی مقام جس زندان میں قید تھے اس کے نگران کی آپ ؑ کے بارے میں کیا رائے تھی؟
جناب کلینی کافی میں محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن موسیٰ بن جعفر سے روایت کرتے ہیں: جب امام حسن عسکری ؑ کو سامرا میں قید کیا گیا تو بنی عباس کے کچھ گمراہ لوگ جن میں صالح بن علی وغیرہ زندان کے نگران صالح بن وصیف نے کہا: میں ان کے ساتھ کس طرح سختی کروں؟ میں نے ڈھونڈھ کر دو سنگ دل آدمی ان کی نگرانی پر لگائے تھے لیکن ہوا یوں کہ وہ دونوں امام ؑ پر سختی کرنے کی بجائے نماز اور عبادت میں منہمک ہوکر رہ گئے۔ پھر جب میں نے ان دونوں کو بلوا کر پوچھا کہ وائے ہو تم دونوں پر! امام حسن عسکری ؑ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ وہ کہنے لگے: آپ ایسے انسان کے متعلق پوچھ رہے ہیں جو دن میں روزے رکھتا ہے اور رات عبادت میں بسر کرتا ہے اور عبادت کے سوا نہ اُن کا کوئی کام ہے اور نہ اس کے سوا وہ کوئی بات کرتے ہیں۔ جب وہ ہماری طرف دیکھتے ہیں تو آپ ؑ کی ہیبت سے ہم کانپ اُٹھتے ہیں اور ہمارے اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ جب اُن عباسیوں نے یہ سنا تو مایوس ہوکر چلے گئے۔

فکری انحرافات کا سَدّ باب

امام حسن عسکری ؑ عالم اسلام میں رونما ہونے والے تمام واقعات پر گہری نظر رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپؑ کو اطلاع ملی کہ ایک عرب فلسفی نے تناقضاتِ قرآن کے بارے میں کوئی کتاب لکھی ہے تو آپ ؑ نے اپنے اصحاب کو اس موضوع پر اس کے ساتھ بحث و مناظرہ کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بڑا قابل آدمی ہے ہم اس سے کیونکر مناظرہ کرسکتے ہیں؟ امام ؑ نے فرمایا:
تم اُس کے پاس جاؤ اور اُس سے پوچھو کہ تم نے اپنے علم و فہم کے مطابق قرآن مجید کے تضادات کو جمع کیا ہے لہٰذا بتاؤ کیا یہ ممکن نہیں کہ تم نے کسی آیت کا جو مطلب سمجھا ہے اللہ کا مطلب اس کے برعکس ہو؟‘‘
جب اس فلسفی نے یہ بات سنی تو ان سے پوچھنے لگا کہ تم کس کے شاگرد ہو اور کس نے تمہیں یہ سوال دے کر بھیجا ہے؟ آپ کے اصحاب نے امام حسن عسکری ؑ کا نام لیا تو وہ فلسفی کہنے لگا: اس طرح کی علمی اور مسکت بات سوائے اہل بیت ؑ کے کوئی اور نہیں کرسکتا کیونکہ یہ وہ ہیں جن کو علم اس طرح بھرایا گیا ہے جس طرح پرندہ اپنے بچے کو دانہ بھراتا ہے۔
دوسرے ائمہ اہل بیت ؑ کی طرح امام حسن عسکری ؑ کو بہت سے ایسے لوگوں سے واسطہ پڑا جو فکری طور پر اسلام سے منحرف ہوچکے تھے۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ دنیا کو اسلام کا ایسا چہرہ دکھایا جائے جو بھیانک ہو، جس سے دنیا اسلام سے متنفر ہو مگر ائمہ طاہرین ؑ نے اپنی علمی، فکری اور روحانی رہنمائی کے ذریعے ان اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنادیا۔
امام حسن عسکری ؑ کی شہادت کے ساتھ اللہ کی آخری حجت حضرت امام مہدی ؑ کی امامت کا دور شروع ہوتا ہے جنہیں اللہ نے حضرت یحییٰ ؑ کی طرح بچپن میں ہی حکمت سے نوازا تھا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی اس آخری حجت کے دیدار سے مشرف فرمائے اور آپ ؑ تشریف لاکر دنیا کو عدل و انصاف سے بھردیں۔

شیعوں کے نام آپ ؑ کی وصیت

شیعوں کے نام امام حسن عسکری ؑ کی وصیت سے چند اقتباسات پیش کررہے ہیں۔ آپ ؑ فرماتے ہیں:
’’میں تم لوگوں کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے، اپنے دین میں خوف خدا کو مدنظر رکھنے، اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے، سچ بولنے، امانت میں خیانت نہ کرنے کی چاہے وہ امانت نیکوکار کی ہو یا بدکار کی، نماز میں سجدوں کو طول دینے اور ہمسائے کا خیال رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہی وہ احکام ہیں جو رسول اللہ ؐ لے کر آئے کہ اپنے قرابت داروں سے نیک سلوک کرو، ان لوگوں کے جنازوں میں شرکت کیا کرو، ان کے بیماروں کی عیادت کیا کرو اور ان کے حقوق ادا کرتے رہا کرو۔ اگر تم میں کوئی اپنے دین میں خدا کا خوف رکھتا ہو، سچ بولتا ہو، لوگوں کی امانتیں ادا کرتا ہو، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا ہو اور پھر اس کے بارے میں کہا جائے کہ یہ شیعہ ہے تو اس سے مجھے بے حد خوشی ہوگی۔ اللہ سے ڈرو اور ہمارے لیے نیک نامی کا باعث بنو رسوائی کا باعث مت بنو۔ ساری محبت ہماری طرف مرکوز کرو اور ہمیں ہر برائی سے دور سمجھو کیونکہ ہمارے بارے میں جو بھی خوبی بیان کی جائے ہم اس کے سزاوار ہیں اور ہمارے متعلق جو برائی بیان کی جائے ہم اس سے پاک ہیں۔ ہمارے حق کا ذکر قرآن میں ہے ہماری قرابت رسول اللہ ؐ سے ہے، اللہ نے ہمیں رجس سے پاک رکھا ہے اور ہمارے علاوہ جو بھی یہ دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے۔ کثرت سے اللہ کو یاد کرو اور موت کو مت بھولو، قرآن کی تلاوت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں۔ میری وصیتوں کو یاد رکھو اور میں نے تمہیں جو ہدایات دی ہیں ان پر عمل کرو اللہ تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اپنی رحمتیں تم پر نازل کرے۔ میری طرف سے تم پر عمل سلام ہو۔‘‘ (بحارالانوار ج ۷۵، ص ۳۷۶)
یہ تھی اپنے شیعوں کے نام امام حسن عسکری ؑ کی وصیت۔ یعقوب بن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام حسن عسکری ؑ کو لکھا کہ بندہ اپنے اس پروردگار کی عبادت کیونکر کرے جسے اس نے دیکھا ہی نہیں؟ امام عالی مقام نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ؐ نے اپنے پروردگار کو دیکھا تھا؟ اس کے بعد آپ ؑ نے تحریر فرمایا:
’’اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ اَرٰی رَسُوْلَہُ بِقَلْبِہٖ مِنْ نُوْرِ عَظَمَتِہِ مَا اَحَبَّ۔‘‘
’’اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نور کی عظمت کا دیدار اپنے رسول ؐ کو آپ ؐ کے قلب مبارک کے ذریعے کرایا۔‘‘ (کافی ج ۱، ص ۹۵)
اللہ کو ظاہری آنکھوں سے نہیں بلکہ دل کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی۔ دل نے اسے نہیں جھٹلایا جسے پیغمبروں نے دیکھا۔ (سورۂ نجم: آیت ۱۱)
آپ ؑ کا فرمان ہے:
خَصْلَتَانِ لَیْسَ فَوْقَھُمَا شَیْ ءٌ اَلْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ وَنَفْعُ الْاِخْوَانِ۔
’’دو خصلتوں سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ اللہ پر ایمان اور اپنے دینی بھائیوں کو فائدہ پہنچانا۔‘‘ (مستدرک الوسائل ج ۱۲، ص ۳۹۱)
آپ ؑ کے کچھ اصحاب نے آپ ؑ کو خط لکھ کر استدعا کی کہ آپ ؑ انہیں کوئی دعا تعلیم فرمائیں۔ آپ ؑ نے انہیں یہ دعا تعلیم کی:
’’یَااَسْمَعَ السَّامِعِیْنَ وَیَااَبْصَرَ الْمُبْصِریْنَ یَاعِزَّ النَّاظِرِیْنَ وَیَااَسْرَعَ الْحَاسِبِیْنَ وَیَااَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَااَحْکَمَ الْحَاکِمِیْنَ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاَوْ سِعْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ وَمُدَّلِیْ فِیْ عُمُرِیْ وَامْنُنْ عَلَیَّ بِرَحْمَتِکَ وَاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ تَنْصِرُبِہٖ لِدِیْنِکَ وَلَا تَسْتَبْدِلْ بِی غَیْرِیْ۔‘‘
’’اے سب سے زیادہ سننے والے! اے سب سے زیادہ دیکھنے والے! اے سب سے زیادہ اپنے بندوں پر نظر رکھنے والے! اے جلد حساب لینے والے! اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے! اے سب فیصلہ کرنے و الوں سے بہتر فیصلہ کرنے والے محمدؐ و آل محمد ؑ پر اپنی رحمت نازل فرما، میرے رزق میں برکت عطا فرما، میری عمر میں اضافہ فرما، اپنی رحمتوں کے ذریعے مجھ پر احسان فرما اور مجھے ان لوگوں میں سے قرار دے جو تیرے دین کے مددگار ہیں مجھے اس راستے سے مت ہٹا۔‘‘ (بحارالانوار ج ۵۰، ص ۹۸ ۲)
یہ ہیں امام حسن عسکری ؑ کی مبارک زندگی کے چند گوشے۔ ہمیں آپ ؑ کی تعلیمات اور وصیتوں پر عمل کرنے کے ذریعے آپ ؑ کی پیروی کرنی چاہیئے۔

۔۔۔۔۔