اُمت اسلامی و اخوت اسلام

از:مرجع دینی آیت اللہ سیّد محمد حسین فضل اللہ ۔ قدس سرہ

اسلامی بھائی چارہ

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک حضرت محمد مصطفی ؐ سے مخاطب ہوتے ہوئے قرآن کریم میں فرماتا ہے:  یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَرْ سَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا۔ وَّ دَاعِیًا اِلٰی اللّٰہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔  ”اے نبیؐ! ہم نے آپ کو لوگوں کا گواہ اور نیکوں کو بہشت کی خوشخبری دینے والا اور بُروں کو عذاب سے ڈرانے والا اور خدا کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور ایمان و ہدایت کا روشن چراغ بناکر بھیجا ہے۔“   (سورہ احزاب: آیت ۵۴۔ ۶۴)

اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عزیز میں دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:

لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۔

”اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان کیلئے انہیں کی قوم کا ایک رسول بھیجا جو انہیں آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور ان (کے نفوس) کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب خدا اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔“  (سورہ آل عمران: آیت ۴۶۱)

مذہب اہل بیت ؑ کے اکثر علماء کے مطابق رسول اکرمؐ 17/ ربیع الاوّل کو اس دنیا میں تشریف لائے اور یہ تاریخ امام جعفر صادق  ؑ کی ولادت باسعادت کا دن بھی ہے۔

ان دو ہستیوں کی ولادت کے موقع پر ہمیں اپنی ذمے داریوں کو سمجھنے اور اُن سے عہدہ بر آہونے کیلئے ان ہستیوں کی پاکیزہ تعلیمات کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔

آج ہم رسول اعظمؐ کا جشن منارہے ہیں جنہیں اللہ نے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے کیلئے منتخب کیا اور تمام فضیلتوں کو اُن کی ذات اقدس میں جمع کردیا۔ اللہ نے آپ کو شاہد بنایا کہ آپ یہ دیکھیں کہ لوگ کیونکر اللہ سے تعلق جوڑتے ہیں یا اُس کے راستے سے منہ موڑتے ہیں۔ آپ اپنے زمانے کے بعد قیامت تک کے زمانوں کیلئے شاہد ہیں۔

آپ نے نیک اور متقی افراد کو جنت کی بشارت دی اور اُن لوگوں کو جو احکاماتِ الٰہی کی کھلی خلاف ورزی کرتے تھے، آتش جہنم سے ڈرایا۔ آپ نے لوگوں کو گزشتہ انبیاء کی طرح ایک خدا کی عبادت کرنے کا حکم دیا اور اُس کی نافرمانی سے منع فرمایا۔ یہی اسلام کی دعوت ہے۔ تمام انبیاء اپنے کردار و گفتار سے یہی بات بتاتے رہے ہیں۔

ذہنی اور قلبی ہجرت

جب حضرت عیسیٰ ؑ کی قوم کفر پر ڈٹ گئی تو آپ نے ان سے فرمایا:  مَنْ اَنْصَارِیْ ٓ اِلٰی اللّٰہِ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَاشْھَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ۔

”کون ہے جو اللہ کی راہ میں میرا مددگار بنے؟ یہ سن کر حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے مددگار ہیں اور ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور آپ گواہی دیں کہ ہم مسلمان ہیں۔“  (سورہ آل عمران: آیت ۲۵)

ہمارے نبی حضرت محمدؐ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کی طرف ہجرت کریں۔ ہماری عقل و فکر اللہ کی طرف ہجرت کرے۔ ہم شرک سے توحید کی طرف ہجرت کریں، کفر سے ایمان کی طرف ہجرت کریں، انحراف سے استقامت کی طرف چلیں، ہمارے دل نفرت اور عداوت سے محبت اور شفقت کی طرف پلٹ جائیں۔ پوری زندگی میں ہم اللہ کی نافرمانی سے اللہ کی فرماں برداری کی طرف ہجرت کریں اور گناہوں کی دلدل سے نکل کر اللہ کے مطیع فرمان ہوجائیں۔ یہ مِن بلدٍ اِلیٰ بلد  ہجرت نہیں۔ اس ہجرت کیلئے قدم اُٹھاکر رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس ہجرت کے راستے قلب و ذہن، فکر و نظر اور عمل سے طے کئے جاتے ہیں۔ رسول اللہؐ بھی یہی چاہتے تھے کہ آپ کی دعوت ایک مسلمان کی پوری زندگی پر محیط ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام انسانوں کیلئے رسول بناکر بھیجا اور آپ نے اسلام کا پیغام پوری انسانیت تک پہنچانے کا فرض ادا کیا۔ لہٰذا امت کے ہر فرد کی ذمے داری ہے کہ اسلام کے پیغام کو پوری دنیا میں عام کرنے کی اپنی سی کوشش کرے کیونکہ نبی کریمؐ اس دنیا میں ایک مختصر مدت تک زندہ رہے۔ اس عرصے میں آپ نے اسلام لوگوں تک پہنچایا، اُن کو سیدھا راستہ دکھایا اسلام کی بنیادی تعلیمات کی تشریح فرمائی اور لوگوں کو شریعت کی تفصیل بتائی۔

گویا آپ یہ کہہ رہے تھے کہ اے لوگو! تم میں سے ہر ایک اسلام پر ایمان لائے، اسے اپنے دل و دماغ میں بسائے، اُس کے راستے پر چلے اور دوسروں تک اسلام کا پیغام پہنچائے۔ جب آپ نے لوگوں کو اسلام کی طرف بلانے کا ارادہ کیا تو خدا نے آپ سے فرمایا کہ اپنے گھر سے اس کی شروعات کرو۔ وَاْمُرْ اَھَلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا۔ ”اپنے گھر کو نماز کا حکم دیجئے اور آپ خود بھی اس کی پابندی کیجئے۔“  (سورہ طہٰ: آیت ۲۳۱)

اپنے گھر والوں کو نماز کی دعوت دینا گویا اللہ کی اطاعت و عبادت کرنے اور شرک اور اللہ کی معصیت سے بچنے کی دعوت ہے۔ نماز مسلمان کی پہچان ہے۔ نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔ جو نماز نہیں پڑھتا اُس کا اللہ سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے گویا وہ دائرہئ اسلام سے خارج ہوچکا ہو۔ بے نمازی کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اگرچہ وہ اپنی زبان سے کلمہ پڑھتا رہے۔ اگر انسان صرف یہی سوچے کہ کیا ہم اللہ سے بے نیاز ہوسکت ہیں جبکہ ہمارے ہلتے ہاتھ، چلتے پاؤں، سنتے کان اور دیکھتی آنکھیں سب اسی کی عطا ہیں تو کیا اس کے باوجود ہم اُس کی عبادت نہ کریں؟ کیا ان سب نعمتوں کے باوجود ہم نماز نہ پڑھیں اور روزے نہ رکھیں؟ اور یہ کہیں کہ میں آزاد ہوں، میں کسی کا بندہ نہیں ہوں۔

اللہ نے جب اپنے رسولؐ کو حکم دیا کہ وہ سب سے پہلے اپنے گھر والوں کو اسلام کی دعوت دیں تو آپ نے اپنے خاندان کو جمع کیا۔ اس دعوت ذوالعشیرہ کے وقت امام علی ؑ صرف گیارہ برس کے تھے۔ آنحضرتؐ نے تبلیغ اسلام اور دعوت الیٰ اللہ کے لیے اُن سے مدد مانگی اور آپ نے یہ پیشکش بھی کی کہ جو اس راہ میں میری مدد کرے گا وہ میرے بعد میرا وصی اور خلیفہ ہوگا مگر امام علی ؑ کے سوا کوئی نہ اُٹھا۔ جب امام علی ؑ نے اس کم سنی کے باوجود آپ کی مدد کا وعدہ کیا تو رسول اللہؐ نے فرمایا:  اَنْتَ خَلِیْفَتِیْ مِنْ بَعْدِیْ  ”اے علی ؑ! میرے بعد تم میرے خلیفہ ہوگے۔“

ایک مسلمان کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم تمام لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں، اگرچہ ہمارا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے کیوں نہ ہو، ہمیں سب سے پہلے اسلام اور مسلمانوں کے لیے سوچنا چاہیے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پوری دنیا میں اسلام کا پیغام عام کرنے کی کوشش کریں اور یہ کام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ حکمت سے، مکالمے سے اور اچھے اخلاق کے ذریعے سے ہوگا۔ اس کے لئے لازمی ہے کہ ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کی پسند اور ناپسند کو جانیں، اس کو سمجھیں پھر اپنے اخلاق اور اچھے انداز سے ان کے دلوں کے ساتھ ان کے ذہنوں کو بھی جیتنے کی کوشش کریں۔ تاریخ کے اس موڑ پر ہمیں اپنے آباء و اجداد کو بھی یاد رکھنا چاہیے جو اسلام خصوصاً مکتب اہل بیت ؑ سے وابستہ رہے اور اس امانت کو ہمارے سپرد کرگئے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کو اپنے آنے والی نسلوں تک منتقل کریں۔ وہ اسلام جو خالص، مضبوط اور مہذب ہو، ایسا اسلام جس سے محبت، اتحاد، طاقت اور عزت و افتخار کی روشنی پھولتی ہو، ایسا اسلام ہرگز نہیں جس کے ماننے والے خود ذلت وپستی میں گھرے ہوئے ہوں اور دوسروں کو بھی ذلیل کرنے کا باعث ہوں۔ ہمیں اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرنے کے لئے اپنے آپ کو طاقتور بنانا ہوگا کیونکہ حق طاقت کا محتاج ہے۔ ہمیں خود کو طاقتور بنانے پر بہت توجہ دینی ہوگی۔

ہمیں طاقتور بننے کے لیے سب سے پہلے اپنے درمیان اتحاد کو فروغ دینا چاہیے اور کسی کو بھی اپنے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کا موقع نہیں دینا چاہیے ورنہ بقول قرآن ہماری ہوا اکھڑ جائے گی۔ہم میں سے ہر ایک کو دوسرے سے نظریاتی اور سیاسی اختلاف رکھنے کا حق ہے مگر اسے بنیاد بناکر آپس میں لڑنا جھگڑنا صحیح نہیں۔ یہ مومن کی شان نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے کہ جب کسی چیز کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف ہوجائے تو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی طرف رجوع کریں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس کی بجائے اپنی نانیت، اپنی پارٹی، اپنی فیملی اور اُن شیطانوں کی طرف رجوع کرتے ہیں جو خاندانی اور سیاسی تعصبات کی وجہ سے ہمارے اندر ڈیرہ جمائے بیٹھے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:  یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُو اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَ عْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُ دُّوْہُ اِلٰی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِِ الْاٰخِرِ ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۔

”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسولؐ اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں اکی اطاعت کرو، اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں جھگڑا ہو جائے تو اس معاملے کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف پلٹا دو، اگر تم واقعی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی صحیح طریقہئ کار اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے۔“ (سورہ نساء: آیت ۹۵)

دوسری جگہ اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے:  اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ‘ وَلَا تَنَازَ عُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ۔ 

”اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ تم کمزور پڑ جاؤ گے اور تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔“  (سورہ انفال: آیت ۶۴)

ہم سب مسلمانوں کو عید میلاد النبیؐ کے دن رسول اللہؐ کی روح پاک سے یہ عہد کرنا چاہیے کہ یا رسول اللہؐ! آپ کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے ہم اپنے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دیں گے کیونکہ یہ حکم الٰہی آپ ہی کے ذریعے سے ہم تک پہنچا ہے:  وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّ قُوْا۔

”تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔“

 (سورہ آل عمران: آیت ۳۰۱)

آج ہم مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں لیکن خدا کی خاطر ہمیں اسلام کے پرچم تلے متحد ہوکر ڈائیلاگ کے ذریعے باہمی اختلافات کو حل کرنا ہوگا۔

جب اللہ تعالیٰ ہمیں ظالموں کے سوا تمام اہل کتاب سے بھی مشترکات پر بہترین انداز میں مکالمے کا حکم دیتا ہے تو ہمیں بطریق اولیٰ اپنے مسلمان بھائیوں سے مکالمہ کرنا چاہیے جو دوسروں کی نسبت ہمارے زیادہ قریب ہیں لیکن افسوس اس پسماندہ ذہنیت کی وجہ سے جو ہمیں ورثے میں ملی ہے، ہم فروعی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہم اختلافی اُمور کو تو سینہ تان کر اُچھالتے ہیں مگر جن اُمور پر عمومی اتفاق پایا جاتا ہے اُن پر بات ہی نہیں کرتے۔ اسی وجہ سے ہم تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جارہے ہیں یہاں تک کہ تقسیم پسندی ہر مسلمان کی طبیعت ثانیہ کا خاصہ بنتی جارہی ہے۔

آج کے مبارک موقع پر ہمیں چاہیے کہ رسول اللہؐ کی تعلیمات کی روشنی میں ہم حقیقی اسلام کو سمجھیں جو اتحاد، بھائی چارے، کشادہ دلی اور محبت کا درس دیتا ہے اور آپ کی زندگی کو جو خلق عظیم کا نمونہ تھی اپنے لیے مثال بنائیں۔

آج ہم فرزند رسولؐ، آسمان امامت کے چھٹے آفتاب امام جعفر صادق  ؑ کا یوم ولادت بھی منارہے ہیں۔ آپ کی تعلیمات بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ فقہ جعفری کی تدوین اور ترویج جو کہ حقیقی اسلام اور ائمہ طاہرین ؑ کا راستہ ہے امام جعفر صادق ؑ کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے:

مَثَلُ اَھْلِ بَیْتِیْ فِیْکُمْ کَسَفِیْنَۃِ نُوْحٍ مَنْ رَکِبَھٰا نَجَاوَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْھٰا غَرِقَ وَ ھَوٰی۔

”میرے اہل بیت  کی مثال تمہارے درمیان کشتی نوح ؑ کی مانند ہے۔ جو اس میں سوار ہوگیا وہ بچ گیا اور جو پیچھے رہ گیا وہ ڈوب کر ہلاک ہوگیا۔“   (بحار الانوار ج ۳۲، ص ۰۲۱)

۔۔۔۔۔