امام جعفر صادق ؑ ، علم کا عظیم پیکر

صادق آل محمد ؑ کی شہادت کی مناسبت پر

از:مرجع دینی آیت اللہ سیّد محمد حسین فضل اللہ ۔ قدس سرہ


۲۵؍ شوال امام جعفر صادق ؑ کی شہادت کا دن ہے۔ آپ ؑ علم کے ایسے عظیم پیکر تھے جن کی تعلیمات سے نہ صرف آپ ؑ کے ماننے والے بلکہ غیر بھی برابر فیض حاصل کرتے رہے۔

آپ ؑ نے رسول اکرم ؐ اور اپنے آباء و اجداد کی تعلیمات لوگوں تک پہنچائیں کیونکہ آپ ؑ علم نبوت کے پاکیزہ و شفاف چشمہ سے سیراب تھے۔ آپ ؑ وہ صادق امام تھے کہ ہر کوئی آپ ؑ کی صداقت کا قائل تھا۔ آپ ؑ عظمت کی اتنی بلندی پر تھے کہ غیر مسلم بھی آپ ؑ کی روحانیت سے متاثر تھے اور جو شخص آپ ؑ سے ایک بار ملتا آپؑ کا گرویدہ ہوجاتا تھا۔

امام عالی مقام اور تبلیغ دین

امام جعفر صادق ؑ کسی کے لیے بھی گفتگو کا دروازہ بند نہیں کرتے تھے۔ آپؑ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ ایک مرتبہ آپؑ مسجد الحرام میں تشریف فرما تھے اور لوگ خانۂ کعبہ کے طواف میں مشغول تھے مگر آپؑ حقیقت اسلام کا طواف کررہے تھے تاکہ لوگوں کو اسلام کے قریب لایا جاسکے۔ اس دوران زنادقہ (جو لوگ اللہ کے منکر ہیں) کا ایک گروہ آپؑ سے ملاقات کرنے آیا۔ آپؑ نے مسجد الحرام میں ان کا استقبال کیا، ان کے ساتھ کشادہ دلی سے پیش آئے اور ان کے فکری مسائل کو توجہ سے سنا۔ پھر ان کے حل بتائے۔ آپ ؑ ہر چھوٹے بڑے کے ساتھ گھل مل کر بیٹھتے اور لوگوں کی رہنمائی، اُن کو راہ راست پر لانے، خدا کی معرفت کرانے اور انہیں اسلامی طرزِ حیات سکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ آپؑ لوگوں سے مکالمہ (Dialogue) اور گفتگو کرنا پسند فرماتے تھے۔ جب لوگ آپؑ سے کسی چیز کے بارے میں پوچھتے تو آپؑ جواب دیتے۔ اگر لوگ خاموش رہتے تو آپؑ اُن سے پوچھتے اور باتوں باتوں میں اسلام کے احکام ان کو بتاتے۔ آپؑ بے حد بُردبار تھے۔ جو لوگ آپ ؑ کو تکلیف دیتے آپ ؑ اُن سے بھی مسکرا کر ملتے اور انہیں معاف فرما دیتے تھے۔

امام جعفر صادق ؑ کا دورِ امامت اسلام کا علمی دور تھا۔ آپ ؑ نے تمام لوگوں کو اپنے علم سے فیضیاب کیا جیسا کہ احکام وحی تمام لوگوں کے لیے یکساں ہوتے ہیں۔ آپ ؑ چاہتے تھے کہ معاشرے کا ہر فرد، چاہے اس کا تعلق عوام سے ہو، علماء سے ہو یا فقہاء ومتکلمین سے یا غیر مسلموں سے، سب کو بتلائیں کہ اسلام ایک جامع دین ہے۔ یہ دین اپنے دامن میں زندگی کے تمام شعبوں کے مسائل کا حل رکھتا ہے اور کوئی مسئلہ ایسا موجود نہیں جس کے بارے میں لوگ جاننا چاہیں اور اسلام کے پاس اُس کا حل نہ ہو۔

اسلام کے حقیقی داعی

جب ہم امام جعفر صادق ؑ کے علمی آثار کا مطالعہ کرتے ہیں تو بخوبی پتا چلتا ہے کہ کوئی مسئلہ ایسا نظر نہیں آتا جو لوگوں کی ضرورت سے متعلق ہو اور آپؑ نے اس کا اسلامی حکم بیان نہ کیا ہو۔ اسی طرح لوگوں کے ذہنوں میں اسلام سے متعلق پیدا ہونے والے سوالات، شکوک و شبہات کے جوابات اور اسلام کو لاحق داخلی اور خارجی اختلافات کے متعلق آپ ؑ کے فرمودات آج بھی صفحات تاریخ کی زینت ہیں۔ آپؑ نے اس حقیقی اسلام کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا جو ائمہ اہل بیت ؑ کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ آپ ؑ نے اہل بیت ؑ کے ماننے والوں کو اسلام کی حقیقی تعلیمات سکھائیں تاکہ وہ اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ آپؑ نے سیاسی بنیادوں پر ان کی تربیت کا بھی خاطر خواہ انتظام فرمایا تاکہ دوسرے لوگ سیاسی طور پر ان کا استحصال نہ کرنے پائیں۔

آپؑ اپنے شیعوں کو متحد رکھنے اور انہیں مخالفین کے ظلم و تشدد سے بچانے کے لیے دن رات کوشاں رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ نے انہیں تقیہ کی تاکید فرمائی۔ اس حکم کی بنا پر کوئی یہ خیال نہ کرے کہ امام ؑ نے تقیہ کا حکم دے کر لوگوں کو مذہب اہل بیت ؑ سے دور کیا۔ نہیں! بلکہ تقیہ کا حکم دے کر آپ ؑ نے نہ صرف اپنے ماننے والوں کو دشمنوں کے سخت ترین مظالم سے محفوظ رکھا بلکہ مذہب اہل بیت ؑ کی حفاظت کا بندوبست بھی کیا کیونکہ اس پُرآشوب دور میں مذہب اہل بیت ؑ کی حفاظت سب سے اہم فریضہ تھا۔

یہی وجہ تھی کہ آپ ؑ اشتعال انگیزی کے سخت خلاف تھے اور اپنے ماننے والوں سے فرماتے تھے کہ ہمیں پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ کون سا طریقہ مذہب کے استحکام کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ کون سا گروہ حق سے آشنائی رکھتا ہے۔ اس وقت کے حالات کس رد عمل اور لائحہ عمل کے متقاضی ہیں۔ وہ ماحول کیسا ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہیں تاکہ ہم اس طریقہ کار پر عمل کرکے اپنے مذہب حقہ کی حفاظت کرسکیں اور اسے آئندہ کے لیے بھی محفوظ رکھ سکیں۔ کیونکہ مذہب اہل بیت ؑ کا استحکام اسلام کا استحکام ہے اور یہ وہی طریقہ ہے جو پیغمبر اکرمؐ نے ہجرت سے پہلے اپنایا تھا۔ آپؐ نے تمام مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ کسی بھی اشتعال انگیزی سے منع کیا تھا۔ آپؐ نے تشدد کے بجائے امن کا راستہ اپنایا تھا۔ اس طرح آپؐ اسلام کی تعلیمات کو پُر امن طریقے سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوگئے۔

ہم ائمہ اہل بیت ؑ کی پیروی کرتے ہوئے در حقیقت رسول اکرمؐ کی اتباع کرتے ہیں۔ ائمہ اہل بیت ؑ کے فرامین دراصل رسول اکرمؐ کے فرامین ہیں کیونکہ ائمہ طاہرینؑ رسول اکرمؐ کی تعلیمات اور وصیت کے مطابق زندگی گزارتے تھے۔ اسی لیے ہم ان تمام فرمودات سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں جو زندگی کے مختلف شعبوں کے بارے میں انہوں نے فرمائے اور ان کی تمام نصیحتوں سے آشنائی حاصل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کی بات رسول ؐ کی بات ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ زندگی کے تمام پہلوؤں خاص طور پر ان مسائل میں جن سے آج کا معاشرہ دوچار ہے، ان کے فرامین پر عمل کریں۔ آج ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہر جگہ جھوٹ کا بازار گرم ہے، نفرتوں اور تفرقوں کا دور دورہ ہے، ملت کا شیرازہ بکھر گیا ہے حتیٰ کہ مومنین کے درمیان سے بھی باہمی محبت اور ہمدردی کا جذبہ اُٹھ گیا ہے۔ ہم معمولی معمولی باتوں پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ پھر یہی اختلاف بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو شر انگیز، مفسد اور نہ جانے کیا کیا کہہ دیتے ہیں۔ پھر ہمارا معاشرہ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوجاتا ہے اور ہر گروہ اپنے آپ میں مگن ہوکر رہ جاتا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہؐ کی رسالت کا اقرار کرتے ہوئے کلمۂ شہادتین پڑھنے والے اور اہل بیت ؑ نبوت کے ماننے والوں کو ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے آگے آنا چاہیے جہاں امن و سکون اور بھلائی کا دور دورہ ہو۔

پوری انسانیت کے لیے نصیحت

اب میں آپ کی خدمت میں امام جعفر صادق ؑ کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں جو آپ ؑ نے رسول اللہ ؐ سے روایت کی ہے جس میں تمام مومنین کے لیے نصیحت اور رہنمائی کا مکمل سامان موجود ہے۔ یہ ایک ایسی نصیحت ہے جو آپ کو بہترین مشورہ دے سکتی ہے، ایسے دل کی نصیحت ہے جو انسانوں کی محبت سے بھرا ہوا ہے۔ ایک ایسے ناصح کی نصیحت ہے جس کی زندگی کا مقصد لوگوں کی ہدایت ہے۔ ایک ایسی ہستی کی نصیحت ہے جو لوگوں کو درپیش تمام مشکلات کا حل پیش کرتی ہے۔ آپ کی نصیحت یہ ہے کہ مومن کو تمام مومنین کے لیے ناصح ہونا چاہیے یعنی آپ کے دل، عقل، بات اور موقف میں کوئی ملاوٹ نہ ہو اور نہ ملاوٹ کرنے والوں کے پیچھے چلیں۔ آپ کا دل ایک آئینے کی طرح ہونا چاہیے جس میں تمام مسلمان یکساں نظر آئیں۔

چنانچہ امام جعفر صادق ؑ رسول خداؐ سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا :

’’اَعْظَمُ النَّاسِ مَنْزِلَۃً عِنْدَ اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَمْشَاھُمْ فِیْ اَرْضِہٖ بِالنَّصِیْحَۃِ لِخَلْقِہٖ۔ ‘‘

جو اللہ کی مخلوق کی خیر خواہی کی خاطر دنیا میں بہت زیادہ سعی و کوشش کرتا ہے قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اس شخص کا مرتبہ بہت بلند ہوگا۔    )کافی ج ۲، ص ۲۰۸ (

یاد رہے پیغمبر اکرمؐ نے اس حدیث میں خیر خواہی کا ذکر کرتے ہوئے یہ نہیں فرمایا کہ مسلمانوں سے خیر خواہی کی جائے بلکہ انسانوں سے خیرخواہی کی بات کی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ انسان اور انسانیت سے محبت کرنا سیکھیں اور ظالم کے سوا کسی سے نفرت اور عداوت کا مظاہرہ نہ کریں۔ 

دوسری جگہ امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں :

’’یَجِبُ لِلْمُؤْمِنِ عَلَی الْمُؤْمِنِ النَّصِیْحَۃُ لَہُ فِی الْمَشْھَدِ وَالْمَغِیْبِ۔ ‘‘

’’مومن پر دوسرے مومن کو نصیحت کرنا واجب ہے چاہے وہ حاضر ہو یا غائب۔‘‘  (کافی ج ۲، ص ۲۰۸)

یعنی ہر حا ل میں اپنے قول و عمل کے ذریعے خیر خواہ ہو اور اس کی موجودگی اور غیر موجودگی میں اس کی خیر خواہی کا متمنی ہو۔

ایک اور جگہ امام ؑ فرماتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے فرمایا :

’’اَنْسَکُ النَّاسِ نُسُکًا اَنْصَحُھُمْ جَیْبًا وَاَسْلَمُھُمْ قَلْبًا لِجَمِیْعِ الْمُسْلِمِیْنَ۔ ‘‘

’’لوگوں میں سب سے بڑا عبادت گزار شخص وہ ہے جس کا دل دوسروں کی خیر خواہی چاہتا ہو اور تمام مسلمانوں کے لیے دل سے سلامتی کا خواہاں ہوں۔‘‘   (وسائل الشیعہ ج ۱۶، ص ۳۴۰)

امام صادق ؑ رسول اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؑ نے فرمایا :

’’مَنِ اسْتَشَارَ اَخَاہُ فَلَمْ یَمْحَضْہُ مَحْضَ الرَّاْیِ سَلَبَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ رَاْیَہُ۔ ‘‘

’’جس شخص سے اس کا ایمانی بھائی مشورہ مانگے اور وہ اسے صحیح مشورہ نہ دے تو اللہ تعالیٰ اس کی قوت رائے کو چھین لیتا ہے۔ ‘‘    )کافی ج ۲، ص ۳۶۳ (

امام جعفر صادق ؑ کے صحابی عثمان بن عیینہ روایت کرتے ہیں: میں نے امام جعفر صادقؑ سے سنا کہ آپ نے فرمایا

عَلَیْکُمْ بِالنُّصْحِ لِلّٰہِ فِیْ خَلْقِہٖ فَلَنْ تَلَقَاہ بِعَمَلٍ اَفْضَلَ مِنْہ۔

’’تم پر لازم ہے کہ خدا کی خاطر اس کی مخلوق کی خیر خواہی کرو۔ خیر خواہی سے افضل عمل تم اور کہیں نہیں پاؤ گے۔‘‘

(کافی ج۲، ص ۲۰۸)

اچھے معاشرے کا قیام

یہ وہ راستہ ہے جس پر امام جعفر صادق ؑ چاہتے ہیں کہ ہم چلیں اور باہمی تعلقات میں ان ہدایات کا خاص خیال رکھیں تاکہ ان اسلامی اصولوں کی بدولت ایک ایسے اسلامی معاشرے کا قیام عمل میں آئے جہاں باہمی نصیحت اور ایمانداری عام ہو۔ ہمارے تمام معاملات دھوکہ دہی سے پاک رہیں اور یہ اسلامی قوانین انفرادی سے اجتماعی زندگی تک لاگو ہوں اور قومی سطح پر سیاسی اور سماجی معاملات میں ان نصیحتوں کے ذریعے باہمی نفرتوں اور اختلافات کو معاشرے سے دور کرکے دلوں کو نفرتوں کی بجائے محبتوں سے پُر کرنے کا جذبہ پروان چڑھے کیونکہ جس دل میں نفرتیں پَل رہی ہوں وہ شیطان کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔

اسی لیے جب اللہ تعالیٰ نے شراب نوشی اور جوئے سے منع فرمایا تو اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ چیزیں دلوں میں نفرتیں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ چنانچہ ارشاد اقدس الٰہی ہے :

’’یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَآءَ فِی الخمر وَالْمَیْسِرِ۔ ‘‘

’’شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے۔‘‘  (سورۂ مائدہ: آیت۹۱)

اور نفرت چاہے قوم پرستی کی بنیاد پر ہو یا پارٹی کی بنیاد پر ہمیں ہر حال میں اس سے بچنا چاہیے۔

اہل بیت ؑ کی اطاعت کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اُن کی ولادت اور شہادت کے ایام منائے جائیں اور محرم کی مجالس میں شرکت کی جائے بلکہ اُن کی اطاعت سے مراد یہ ہے کہ کردار و عمل میں ان کی پیروی کی جائے۔ ان کی اطاعت میں ذمے داری اور سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہاں انسان کو عمل سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ امام محمد باقر ؑ فرماتے ہیں :

کیا شیعہ ہونے کے لیے کسی کا یہ دعویٰ کرنا کافی ہے کہ میں حضرت علی ؑ سے محبت کرتا ہوں اور آپ ؑ کو دوست رکھتا ہوں مگر وہ بے عمل ہو۔ (یاد رکھو!) رسول اکرم ؐ، حضرت علی ؑ سے افضل ہیں۔ کیا کوئی شخص یہ گمان کرسکتا ہے کہ وہ رسول اللہ ؐ سے محبت کا دعویٰ تو کرے مگر آپؑ کی سنت پر عمل نہ کرے؟ (لہٰذا شیعہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کی اطاعت کرے) کیونکہ جو کوئی خدا کا دوست ہے وہ ہمارا بھی دوست ہے اور جو خدا کا دشمن ہے وہ ہمارا بھی دشمن ہے۔ خدا کی قسم! کسی کو تقویٰ کے بغیر ہماری ولایت حاصل نہیں ہوگی۔

لہٰذا ہمیں قیامت میں خدا کے حضور حاضری کو یاد کرتے ہوئے، اس دن کی آج سے ہی تیاری شروع کردینی چاہیے۔ فکر کیجئے اس دن کی جب ہمیں اپنے گھروں سے قبروں کی طرف لے جایا جائے گا اور مال، اولاد اور دوست احباب سب یہیں رہ جائیں گے۔ پھر حسابِ قبر اور محشر کا سامنا کیسے کریں گے اور اللہ کے حضور کیا پیش کریں گے۔ اس دن ہر کوئی اپنی فکر میں بھاگا بھاگا پھررہا ہوگا۔

۔۔۔۔