حضرت علی ؑ عشق خدا میں فنا

خطبۂ اوّل

ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضاۃ اللّٰہ واللّٰہ رؤف بالعباد۔ (سورۂ بقرہ ۲۔ آیت ۲۰۷)

حضرت امام علی علیہ السلام ایک حدیث میں عبادات کے لحاظ سے لوگوں کی اقسام کو کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں :

’’ان قوماً عبدوا اللّٰہ رغبۃ فتلک عبادۃ التجار، وان قوماً عبدوا اللہ رہبۃ فتلک عبادۃ العبید، و ان قوماً عبدوا اللّٰہ شکراً فتلک عبادۃ الاخرار، وھی افضل العبادۃ۔‘‘

بے شک ایک گروہ لالچ اور بہشت کی آرزو میں عبادت کرتا ہے اور یہ تاجروں کی عبادت ہے۔ ایک اور گروہ خوف کی بنا پر خداکی عبادت و پرستش کرتا ہے اور یہ غلاموں کی عبادت ہے۔ ایک اور گروہ شکر و سپاس کے عنوان سے معرفت کے ساتھ خدا کی عبادت و پرستش کرتا ہے اور یہ آزاد لوگوں کی اور بہترین عبادت ہے۔ ‘‘

اس کے بعد امام علی ؑ نے ہاتھوں کو آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا:

’’الٰہی ما عبدتک خوفاً من نارک ولا طمعاً فی جنتک بل وجدتک اھلاً للعبادہ فعبد تک‘‘

’’خدایا! میں نے تیرے جہنم کی آگ کے خوف سے تیری عبادت نہیں کی ہے‘ اور نہ ہی بہشت کے لالچ میں تیری پرستش کی ہے بلکہ میں تیری عبادت اس لئے کی ہے کیونکہ تجھے لائق عبادت سمجھتا ہوں۔ ‘‘

اس حدیث میں امام علی علیہ السلام خدا کے ساتھ معاملے اور عبادت میں لوگوں کی اقسام بیان کرنا چاہتے ہیں۔ بعض لوگ دنیاوی نعمتوں اور اخروی ثواب کو حاصل کرنے کے لیے عبادت کرتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام اس گروہ کو تاجروں میں شمار کرتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ دنیا کا منافع بھی حاصل کریں اور آخرت میں اپنے مقام یعنی بہشت الٰہی پر فائز ہوں۔ ایک گروہ ایسا بھی ہے جو خدا کے عذاب اور سزا کے خوف سے عبادت کرتا ہے اور الٰہی احکامات کا پابند ہے یہ لوگ دنیاوی بلاؤں اور اخروی عذاب سے خوفزدہ ہیں‘ اسی لیے ہمیشہ خدا کی نظارت کو محسوس کرتے ہیں اور جب تک خوف میں مبتلا رہتے ہیں خدا کی عبادت کرتے رہتے ہیں۔

لیکن تیسرا گروہ وہ ہے جو خدا سے عشق کی خاطر خدا کی نعمتوں کی شکر گزاری کی خاطر‘ اور اس کے فضل و کرم کو سمجھتے ہوئے اور اس لیے کہ نیکی کا نیکی کے ساتھ اور احترام کا احترام کے ساتھ‘ اور عنایت کا عنایت کے ساتھ اظہار کرسکیں اسکی عبادت کرتے ہیں۔ حضرت امام علی علیہ السلام نے اس عبادت کو آزاد لوگوں کی عبادت کا نام دیا ہے۔

امام علی علیہ السلام کی مورد نظر عبادت بھی یہی ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ امام علیہ السلام خوف اور لالچ کی بنیاد پر خدا کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کو قبول نہیں فرما رہے ہیں کیونکہ خود خداوند عالم نے اعلان فرمایا ہے کہ خدا نے اس رابطہ کو دو مذکورہ عوامل یعنی عبادتی اعمال اور بہشت حاصل کرنے کے لیے نیک امور کی انجام دہی کی جانب ترغیب‘ اور امر و نہی کی مخالفت کی صورت میں انہیں جہنم کی آگ اور سزا سے خوفزدہ کرنے کی خاطر قبول کرتا ہے۔

لیکن امام علی علیہ السلام چاہتے ہیں کہ اس رابطہ کو بلندیوں تک لے جائیں تاکہ یہ رابطہ خدا کے عشق پر مبنی ہو یعنی اگر ثواب نہ بھی ملے تب بھی انسان خداوند کے اطاعت گزاروں میں شامل ہو جائے اور اگر سزا نہ بھی ملے تب بھی انسان خدا کے نافرمانوں میں شامل نہ ہو۔ یہی خدا سے عشق ہے‘ یہ عشق و اطاعت میں ڈوب جانا ہے یہی عشق خدا میں زندگی ہے۔ یہ وہی حقیقی غذا ہے یہی‘ خدا کے علاوہ ہر شے سے بے نیازی ہے۔

خدا دوستی کا مکتب

امام علی علیہ السلام نے یہ سب مکتب رسول ؐسے سیکھا ہے۔ جس وقت پیامبر اسلام ؐپر وحی نازل ہوئی ’’لم تتعب نفسک وقد غفراللّٰہ لک ما تقدم من ذنبک وما تاخر؟ فقال: ’’الا اکون عبداً شکوراً۔‘‘ خود کو تکلیف و تھکاوٹ میں کیوں مبتلا کرتے ہو؟ جبکہ خداوند نے تمہارے قبل و بعد (اگلے‘ پچھلے) کے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ تو آپؐ نے ارشاد فرمایا: کیا یہ بہتر نہیں کہ میں شکر گزار بندہ بنوں؟ ‘‘

یہ خدا سے عشق کا مکتب ہے؟ یہ وہی عشق ہے جو تمام جہادی‘ مکتبی اور قائدانہ جدوجہد کے پیچھے کار فرما ہے۔ یہ وہی عشق ہے جو زندگی کو قوت پہنچاتا ہے اور جیسا کہ بعض لوگ بدگمانی کا شکار ہوئے ہیں یہ عشق زندگی کی بساط لپیٹنے اور رہبانیت کا سبب نہیں ہے‘ کیونکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خدا سے عشق یعنی یہ کہ زندگی کی تمام تر مصروفیات کو چھوڑ کر کہیں دور صرف عبادت میں مشغول ہونا‘ خدا سے امام علی علیہ السلام کا عشق ایک ایسا خزانہ ہے جو امام کی زندگی کے ہر پہلو میں موجود تھا۔ امام علی علیہ السلام کی خدا سے دوستی قرآن کریم کے اس حصے میں وضاحت کے ساتھ نظر آتی ہے جس میں خداوند عالم امام علی علیہ السلام اور بی بی زہرا سلام اﷲ علیہا سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا ویتیماً واسیراً۔ انما نطعمکم لوجہ اللّٰہ لا نرید منکم جزاءً ولا شکوراً۔ (سورۂ دہر ۔آیت ۸‘۹) خدا سے علی علیہ السلام کی دوستی خیبر کی جنگ میں رسول خدا کے فیصلے میں بھی عیاں نظر آتی ہے جس وقت خیبر کا قلعہ فتح کرنے کے لیے رسول کی جانب سے تمام افراد قسمت آزمائی کرتے رہے اور شکست کھا کر واپس آتے رہے پیامبر اسلام ؐنے فرمایا: ’’لاعطین الرایۃ غداً رُجلاً یجب اللّٰہ ورسولہ، ویحبہ اللّٰہ ورسولہ، کرار غیر فرار، لایرجع حتی یفتح اللّٰہ علی یدیہ۔‘‘ کل یہ علم اس شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو خدا اور اسکے رسول ؐ کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول بھی اسے دوست رکھتے ہیں، خدا خیبر کو اسکے ہاتھوں فتح کرائے گا۔ وہ مسلسل حملے کرے گا اور فرار نہیں ہوگا۔ ‘‘

امام علی علیہ السلام کی خدا سے دوستی جنگ خندق میں عیاں ہے جب مسلمانوں نے مولا سے چاہا کہ اس سے قبل کہ عمر وبن عبدود آپ پر چڑھائی کرے آپ اسے قتل کر ڈالیں۔ امام علیہ السلام‘ عمر بن عبدود کو قتل کرنے سے قبل اسکے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟ امام نے فرمایا: جب میں اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا تو اس نے میرے چہرے پر تھوکا۔ بنا برایں مجھے لگا کہ اگر اس حالت میں میں اسے قتل کروں گا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میں یہ کام اپنا انتقام لینے کے لیے انجام دے رہا ہوں اسی لیے اس سے دور ہوگیا تاکہ میرا غصہ ٹھنڈا ہو اور اسکے قتل میں صرف اور صرف عشقِ خدا کار فرما ہو۔ ‘‘

آزاد لوگوں کی عبادت تک پہنچنے کا طریقہ

عزیزو! ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ خداوند کے ساتھ اپنے ارتباط کو رتبہ عطا کریں جیسا کہ امیر المومنین نے اسے رتبہ بخشا۔ شاید یہاں ممکن ہے کوئی یہ کہے کہ: ہم کہاں اور امیر المومنین کہاں؟ کیا ایسی عبادت تک پہنچنے کے لیے بھی کوئی راستہ ہے؟ جی ہاں یہ کام ممکن ہے لیکن مسلسل اور بہت زیادہ تلاش و کوشش کی ضرورت ہے اول یہ کہ اس عشق کو اپنے دل میں پیدا کریں اور اسے اپنی روح میں پروان چڑھائیں اس حد تک کہ کبھی ختم نہ ہو اور اس پر دوسرے احساسات غلبہ نہ پا سکیں۔ ہمیشہ اس جانب متوجہ رہیں، اسے محسوس کریں اور اسکی خاطر اپنے نفس کا محاسبہ کریں اور پھر اپنے عشق کا اظہار کریں اس عشق کے ساتھ خدا سے محو گفتگو ہوں۔

اس عشق کے دو راستوں یا دو طریقوں کو بیان کیا جاسکتا ہے۔

اوّل: نماز کے ذریعے خداکی عبادت و ذکر و دعا و ملاقات۔ اپنے محبوب حقیقی سے ملاقات کے لیے ضروری ہے کہ نماز کی جانب قدم بڑھائیں، اس ملاقات کے لیے وقت صرف کریں اور اس ملاقات کی تیاری کریں۔ ہمیں اس بات کی جلدی نہیں ہونی چاہیے کہ ایک واجب کا بوجھ اپنے کاندھوں سے اتار پھینکنا ہے۔ اگرچہ (فقہی لحاظ سے) اس طرح بھی قبول کرلیا جائے اور خداوند کیونکہ ہمیں دوست رکھتا ہے لہٰذا قبول کر لے گا لیکن اگر ہم آزاد انسانوں کی عبادت چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اس طرح کے عمل پر راضی نہیں رہنا ہوگا۔

امیر المومنین علیہ السلام جن کی ولایت کو ہم نے قبول کیا ہے خداوند سے ملاقات کے لمحات مولا کے لیے سب سے بہترین لحظات ہوتے تھے۔ مولا کی زندگی پر نظر ڈالنے سے پتا چلتا ہے کہ آپ مشکل ترین وقت میں بھی نماز اور نماز شب کے لیے خصوصی اہتمام کیا کرتے تھے۔ صفین کی جنگ کے دوران لیلہ الھریر میں آپ دوستوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئے جب تلاش کیا گیا تو دیکھا کہ مولا نماز میں مشغول ہیں۔ مولا سے سوال کیا گیا: یہ نماز کا کونسا وقت ہے؟ فرمایا: آخر ہم ان لوگوں سے جنگ کیوں کر رہے ہیں؟ آپ کے بیٹے حسین بن علی علیہ السلام اور آپ کے خاندان والوں نے بھی بدترین حالات میں روز عاشورا نماز ادا کی اور اس طرح ہمیں سکھایا کہ کسی بھی صورت میں خدا سے ملاقات کو ترک نہ ہونے دیں۔ بلکہ اسکے برعکس حالات جتنے مشکل ہی کیوں نہ ہوں انسان پہلے سے بھی بڑھ کر اسکی پناہ حاصل کرتا ہے جسے دوست رکھتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سب سے پہلی چیز جو قربان کی جاتی ہے وہ نماز ہے۔ بعض اوقات نماز بے کار فضول چیزوں کے لیے بھی قربان کر دی جاتی ہے پس ضروری ہے کہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں خدا کی ملاقات محور ثابت ہو۔

خداوند عالم سے عشق پیدا کرنے کے لیے دوسرا راستہ یہ ہے کہ اس عشق کو عملی کریں۔ کس طرح؟ ایسے کہ خدا کی خاطر دوست رکھیں‘ خدا کی خاطر عطا کریں‘ خدا کی خاطر لوگوں کی خطاؤں کو معاف کر دیں اور اس طرح خدا سے عشق ایسا خزانہ اور ایندھن بن جائے کہ ہمارے اطراف والوں کے لیے بھی اس محبت کی سمت کشش کا سبب بنے گا۔ اس سے تمام تر زندگی بہترین اور خود ہمارے اور ہمارے اطراف والوں کے لیے روشن تر اور نورانی ہو جائے گی۔

ہم اس بات کے کس قدر ضرورتمند ہیں کہ ہماری زندگیوں میں عشق خداوندی نمایاں ہو۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ عشق خداوند ہماری دلگرمی کا سبب بنے اور ہم کہیں کہ ہم سب خدا کے پیدا کردہ ہیں اور ہمیں یاد رکھنا چاہیئے کہ خدا کے نزدیک تمام مخلوقات میں محبوب ترین وہ ہے جو عیال اﷲ کے لیے مفید ترین ہو۔

مولود کعبہ

عزیزو! ماہ رجب کی ۱۳ تاریخ اس عظیم ہستی کی ولادت کا روز ہے جو اس عشق کا بہترین عملی نمونہ ہیں۔ وہ جس کے لیے خداوند عالم نے یہ طے کیا کہ اسکی ولادت زمین کی مقدس ترین جگہ یعنی مسجد الحرام (مومنوں کی قبلہ گاہ اور طواف کرنے، اعتکاف کرنے اور سجدہ کرنے والوں کی جگہ ہے) میں انجام پائے۔ پس علی بن ابی طالب ؑ وہ واحد فرد ہیں جو اس لقب کے حقدار ہیں اور وہ لقب ہے’’مولود کعبہ ‘‘

شاعر نے اسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے :

تم وہی علی ہو جو ہر بالا ترین سے بالا تر ہو

کیونکہ تم مکہ کے درمیان خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے ہو

اس احترام نے علی کے کاندھوں پر بھی ایک ذمہ داری چھوڑ دی۔ یہاں ضروری ہے کہ کہ علی بھی اس عظیم ہستی کی خاطر جس نے انہیں اس حد تک مورد احترام قرار دیا اپنی ذمہ داری کو انجام دیں بنابرایں اپنی زندگی کو اس انداز میں گزارا کہ محبت کا جواب محبت سے دیا اور کسی دوسرے کے لیے سجدہ نہ کیا اسی لئے آپ کے متعلق کہا گیا ہے: کرم اﷲ وجہ۔
کیونکہ خداوند عالم نے انہیں بتوں کو سجدہ کرنے سے محفوظ رکھا۔ آپ پیامبر خدا ؐ کے بعد لوگوں میں عابد ترین فرد تھے، سب سے زیادہ نماز ادا کرنے والے اور روزے رکھنے والے، ذکر خدا کرنے والے اور دعا کرنے والے، بخشش طلب کرنے والے، علم و جہاد و فداکاری‘ عطا‘ عدالت اور راہِ خدا میں سب سے آگے تھے۔

خدا سے مولا علی علیہ السلام کا عشق اس درجہ تک پہنچا کہ اب آپ کو فکر نہ تھی کہ آگ میں ڈالے جائیں یا بہشت سے محروم ہو جائیں بلکہ فکر اس بات کی تھی کہ کہیں خدا سے جدا نہ ہو جائیں۔ آپ خداوند عالم کے حضور دعائے کمیل میں اس طرح ارشاد فرماتے ہیں :

’’فھبنی یا الٰھی و سیّدی و مولای و ربّی صبرت علیٰ عذابک فکیف اصبر علیٰ فراقک و ھبنی صبرت علیٰ حرنا رک فکیف اصبر عن النظر الیٰ کرامتک ام کیف اسکن فی النار ورجائی عفوک فبعزتک یا سیدی و مولای اقسم صادقاً لئن ترکتنی ناطقاً لا ضجن الیک بین اھلھا ضجیج الاٰملین ولاصرخن الیک صراخ المستصرخین و لابکین علیک بکاء الفاقدین و لانا دینک این کنت یا ولی المومنین یا غایۃ اٰمال العارفین یا غیاث المستغیثین یا حبیب قلوب الصادقین و یا الٰہ العالمین۔ ‘‘

سلام ہو امیر المومنین پر جس دن آپ پیدا ہوئے، جس دن پروردگار کی بارگاہ میں تشریف لے گئے اور جس دن دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔

خطبہ دوم

اے خدا کے بندو! میں آپ کو اور خود کو تقوائے الٰہی کی سفارش کرتا ہوں۔ کیونکہ جیسا کہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا: ان تقوی اللّٰہ مفتاح سداد، وذخیرۃ معاد، وعتق من کل ملکۃ: ونجاۃ من کل ھلکۃ، بھا ینجح الطالب، وینجو الھارب، وتنال الرغائب۔

خدا کی خاطر تقویٰ دراصل پاکیزگی اور سچائی کی کنجی ہے‘ تقویٰ قیامت کے لیے ذخیرہ اور ہر طرح کی غلامی سے آزادی‘ اور ہر نابودی سے رہائی ہے۔ یہ تقویٰ ہی ہے کہ جو تلاش کرنے والوں کو اسکے مطلوب تک پہنچاتا ہے اور عذاب و گناہ سے بچنے والوں کو رہائی دیتا ہے اور آرزؤں کو پورا کرتا ہے۔

بالفاظ دیگر تقویٰ یہ ہے کہ عمارہ ہمدانی کی بیٹی سودہ کی پیروی کی جائے جو تمام تر ہمت و جرأت کے ساتھ معاویہ کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہا: خداوند ہمارے بارے میں اور ہمارے ان حقوق کے بارے میں تم سے سوال کرے گا جو تمہاری گردن پر ہیں لیکن جو تمہاری طرف سے آیا ہے وہ اپنی حیثیت اور طاقت سے غلط فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وہ تبر بن ارطاۃ ہے جو ہمارے شہر میں آیا ہے۔ اس نے ہمارے مردوں کو قتل کر دیا ہے، ہمارے مال کو برباد کر دیا ہے۔ اگر اسے بر طرف کردو تو ہم تمہارے بہت شکر گزار ہوں گے ورنہ تمہارے خلاف قیام کریں گے۔

معاویہ طیش میں آگیا اور کہا: اے سودہ تم اپنی قوم کے ساتھ ہمیں دھمکی دے رہی ہو؟ تم آخر ہو کون جو یہ کام انجام دینا چاہتی ہو؟

سودہ نے روتے ہوئے یہ اشعار پڑھے :

صلی اﷲ علی جسم تضمنہ ،

قبر فاصبح فیہ العدل مدفوناً

قد حالف الحق لایبقی بہ بدلا

فصار بالحق و الایمان مقرونا

خدا کادرود و سلام ہو اسکی روح پر جسکے قبر میں جانے سے عدل بھی چلا گیا اور عدالت بھی دفن ہوگئی۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ حق فروشی نہ کرے اور حق کی کوئی قیمت دریافت نہ کرے اس نے دل و جان کے ساتھ حق و ایمان کو ایک دوسرے میں جمع کیا۔

معاویہ کہنے لگا: وہ فرد کون ہے؟ سودہ نے جواب دیا: وہ علی بن ابی طالب امیر المومنین کی ذات ہے۔ خدا کی قسم اے معاویہ میں ایک بار ایک شخص کی شکایت لے کر علی بن ابی طالب کے پاس گئی۔ امیر المومنین نے اس شخص کو زکواۃ جمع کرنے پر مامور کیا تھا لیکن اس شخص نے ہمارے ساتھ ظلم کیا تھا۔

میں نے دیکھا کہ امیر المومنین نماز میں مشغول ہیں۔ نماز تمام کرنے کے بعد نہایت مہربانی کے ساتھ انہوں نے پوچھا کیا کوئی کام ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں‘ اور تمام واقعہ کہہ سنایا۔ امیر المومنین نے گریہ و زاری کرتے ہوئے آسمان کی جانب ہاتھ اٹھائے اور عرض کیا: خدا تو میرا اور ان لوگوں کا گواہ ہے تو جانتا ہے کہ میں نے اسے تیری مخلوق پر ظلم کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
پھر امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے چمڑے کا ایک ٹکرا لیا اور اس پر تحریر فرمایا:

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم، قد جائتکم بینہ من ربکم فاوفوا الکیل و المیزان، بالقسط ولا منحسوا الناس اشیاءھم ولا تعثوا فی الارض مفسدین، بقیۃ اللّٰہ خیرلکم ان کنتم مؤمنین و ما انا علیکم بحفیظ: اذا قرأت کتابی فاحتفظ بما فی یدیک من عملنا حتی یقدم علیک من یقبضہ منک والسلام۔

تمہارے لیے خدا کی جانب سے روشن دلیل آئی ہے بس پیمانہ اور ترازو سے بطور کام وفا کرو اور عدالت کا اجرا کرو اور لوگوں کو کم فروخت نہ کرو اور زمین پر فساد نہ پھیلاؤ اور اگر مومن ہو جو کچھ خدا نے تمہارے لیے باقی رکھا ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں جب میرا خط پڑھ لو تو تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے روک لو یہاں تک کہ کوئی تمہارے پاس آئے اور تم سے لے لے۔ والسلام۔

پھر خط میرے حوالے کیا میں نے عہدیدار تک پہنچایا اور وہ بھی اپنے عہدے سے کنارہ کش ہوگیا۔

یہ ہے امام علی ؑ کی عدالت۔ اگر کہیں کسی پر ظلم و ستم ہو رہا ہوتا تو علی علیہ اسلام کو نیند نہیں آتی تھی۔ یہ وہی علی ہیں جو فرماتے تھے: الذلیل ۔۔۔۔ منہ‘‘ خوار ترین افراد میرے نزدیک عزیز ہیں تاکہ انکا حق انہیں دلواؤں اور طاقتور میرے نزدیک پست و ناتواں ہیں تاکہ حق کو ان سے لے لوں۔

امام علی ؑ فرماتے ہیں: وایم اللّٰہ لانصفن المظلوم، من ظالمہ، ولاقودن الظالم بخزامتہ حتی اوردہ منھل الحق وان کان کارھاً۔

اے لوگو! اپنی اصلاح کے لیے میری مدد کرو۔ خدا کی قسم ظالم ستمگر سے مظلوم کا حق لے لوں گا، ظالم کی مہار تھام لوں گا اور حق کی اس پر وارد کروں گا اگرچہ رغبت نہ بھی رکھتا ہو۔

عزیزو! علی سے وفاداری اس وقت حقیقت کا روپ دھار لیتی ہے کہ جس وقت ان لوگوں کے مقابلے پر حق و عدالت کی آواز بلند کی جائے جو لوگوں کی عزت‘ امن و سکون، زندگی اور تقدیر کو برباد کر رہے ہوں۔ نہ ہم خود ظلم کریں اور نہ ہی ظلم کو قبول کریں کہ ہمارے درمیان کسی انسان پر ظلم ہوتا رہے اس طرح ہم اپنی ذمہ داری کے ساتھ تمام مستکبروں بالخصوص صیہونی نظام سے مقابلہ کریں گے۔ وہ نظام جو اپنی طاقت میں اضافے اور فوجی قابلیت کو بڑھانے میں مصروف ہے۔

وہ تیاری میں رہتا ہے تاکہ نئے سے نئے واقعات میں ہاتھ ڈالے۔

آج ہی کے زمانے میں عرب ریاستوں اور اسلامی دنیا کے لیے اس کوشش میں ہیں کہ انکا سب کچھ برباد کر ڈالیں اور بالخصوص ان ممالک میں جن کی طرف سے صیہونیوں کو خطرہ ہے کہ وہ اس نظام کے لیے کوئی اسٹرے ٹیجک توازن ایجاد کر سکتے ہیں اور اس نظام کی جاہ طلبی کے مد مقابل فلسطین اور علاقے میں استقامت دکھا سکتے ہیں۔

عراق‘ فتنوں کی زد میں

عراق میں وحشیانہ حملے بدستور جاری ہیں یہاں تک کہ مسجد اور امام بارگاہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اس طرح فرقہ واریت کا فتنہ کھڑا ہو جائے۔ وہ فتنہ جس میں عراق کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے مقصد یہ ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر عراق کو اسی طرح سخت دباؤ اور بد امنی میں رکھا جائے۔

یہ ظالمانہ رویہ چاہے جس طرف سے بھی اختیار کیا گیا ہے ہم اسکی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس فتنہ سے مقابلے اور اسے دبانے کے لیے جہاں جہاں جس طرح بھی اقدامات کیے گیے ہیں مثلا بغداد میں شیعہ سنی نماز جمعہ میں اور دیگر جگہوں پر ہم انکا احترام کرتے ہیں اور شکریہ ادا کرتے ہیں ہم ایکبار پھر عراقی لیڈروں سے چاہتے ہیں کہ وہ فوری طور پر سیکورٹی‘ سیاسی‘ اجتماعی‘ اور معاشی مسائل کے حل کے لیے راہ تلاش کریں۔ عراق عوام کے جائز مطالبات کو پورا کریں۔ وہ بھی اس طرح پوری عوام چاہے وہ سنی ہو ‘ شیعہ ‘ عیسائی‘ صابئی‘ عرب اور کرد عراقی وغیرہ سب یہ محسوس کریں کہ حقوق و فرائض کی نگاہ سے تمام شہری مساوی ہیں۔

شام کی طاقت کا ہاتھ سے نکل جانا

شام کی داخلی‘ قوت اور توانائی کی بربادی بدستور جاری ہے وہ بھی ایسے افراد کے ہاتھوں جو اسے کو طاقتور دیکھنا نہیں چاہتے اور نہ ہی یہ چاہتے ہیں کہ شام ظلم کی راہ میں دیوار بن جائے۔ البتہ ہمیں امید ہے کہ شام میں ڈائیلاگ کا آغاز ہوگا‘ سب سے ہماری درخواست ہے کہ بڑی طاقتوں کی سازشوں سے ہوشیار رہیں۔ وہ ایسی کوئی پالیسی نہیں اپنائیں گے جو عوام کے فائدے اور حق میں ہو جس سے عوام کی زندگیوں میں عزت‘ آزادی‘ تحقق پذیر ہو بلکہ وہ ایسی پالیسی اپنائیں گے جو صرف انکے اپنے فائدے میں ہو بالخصوص صیہونی نظام کی سیکورٹی اور علاقہ میں مضبوط ترین طاقت کے عنوان سے اسکی بقا کے لیے سود مند ہو۔

بنابرایں ہم اس قوم کے تمام گروہوں کو تاکید کرتے ہیں کہ سب ایک ہی موقف اپنائیں اور ڈائیلاگ کے لیے عجلت سے کام لیں تاکہ طے شدہ راہِ حل شام کا ہو۔ اس کام کو دوسروں کے اختیار میں ہرگز نہ دیں کیونکہ انہیں راہِ حل پیش کرنے میں کوئی جلدی نہیں ہے اور وہ اس کام کو اس وقت انجام دیں گے جب انہیں اطمینان ہو جائے کہ سب زخمی ہو چکے ہیں اور اب انکی شرائط کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

لبنان ‘ وطن کی اہمیت کہاں چلی گئی؟

لبنان آج بھی ان لوگوں کے ہاتھوں مشکل کا شکار ہے جو تمام مسائل میں راہِ حل کے لیے فیصلہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں، نہ انتخاب کے لیے کوئی جدید اور جامع قانون موجود ہے نہ ہی مضبوط حکومت تشکیل پائی ہے جو امن و امان، اجتماعی، معاشی اور تعلیمی مشکلات میں مددگار ثابت ہو۔

ملک اب بھی ایسی خلیج کا شکار ہے جو دوسرے خلاؤں کا سبب بنے کیونکہ سب اپنے اپنے مسائل میں مشغول ہیں اور انتظار میں ہیں کہ انکی پوزیشن واضح ہو تاکہ اسی حساب سے فیصلہ کریں۔

یہاں ہم ایک بار پھر تمام سیاستدانوں اور فیصلہ کرنے والوں سے عرض کرتے ہیں کہ: ملک کے لیے اتنا انتظار کافی ہے ہم ادھر ادھر کی تبدیلیوں میں بہت انتظار کر چکے ہیں لیکن ہمیں ویرانی کے سوا کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا۔ آئیں اور چاہے ایک مرتبہ ہی سہی اختیارات کی ڈور اپنے ہاتھ میں تھام لیں اور وطن کو یقینی طور پر مشارکت اور تعاون کی بنیاد پر چلائیں۔ ضروری ہے کہ سب مل کر اس مرحلے کے خطرات اور اسکے موجودہ و آئندہ نتائج پر غور کریں بالخصوص ایسے موقع پر جبکہ لبنانی‘ شام کے موضوع میں وارد ہو چکے ہیں اور اسکے اثرات لبنان کے اندر جبل محسن‘ اودباب التباۂ (کہ جہاں دسیوں قربانیاں دی جا چکی ہیں) میں بلاوجہ کی جھڑپوں اور دیگر علاقوں میں اسکے اثرات نمایاں ہیں یہاں تک کہ لبنانی فوج پر بھی انکا وار ہو چکا ہے وہ فوج جو اس ملک میں امن و امان اور حفاظت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔

ان حالات کے تحت سب سے ہماری گزارش ہے کہ اپنی ذاتی اور انفرادی مفادات سے ہاتھ روک لیں اور وطن کے مفاد کو مد نظر رکھیں اور ہر اس کام سے گریز کریں جو فتنوں کا باعث بنے۔ اس فتنہ کو نظر میں رکھیں جس کے چہرے سے رفتہ رفتہ نقاب اتر رہی ہے۔ لبنانی آزادی کے اس باعظمت ترین دور میں ہم لبنانیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اپنے ماضی کے حالات کو یاد رکھیں کہ جس میں انہوں نے اپنی وحدت سے ملک کی قوی ترین طاقت کو توڑ ڈالا اور انہیں پہلی بار کسی سیاسی وسیکورٹی معاملے کے بغیر ذلت کے ساتھ عقب نشینی پر مجبور کر دیا۔ یہاں تک کہ قرارداد ۴۳۵ کو اجرا کرنے کی درخواست کی گئی اور وہ بھی تمام بین الاقوامی قراردادوں کی مانند رد کر دی گئی۔

یہ ملک اپنے کم ترین امکانات کے ساتھ جوانوں کی وحدت و استقامت اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ذریعے دشمن کے غرور کو توڑنے اور اپنی قدرت کو ثابت کرنے میں کامیاب رہا بنابریں رخنہ ڈالنے والے نفرت آمیز اور جنگ کو ہوا دینے والے ایسے سیاسی بیانات سے گزیر کریں جو تاریخ کو داغدار کر ڈالے یہاں ہماری ہر ایک سے گزارش ہے کہ موجودہ حساسیت سے ہاتھ روک لیں۔ داخلی جنگ میں استقامت ہدف نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہدف کے لیے بیرونی سازشوں اور صیہونیوں دشمن کے مقابل استحکام و استقامت کافی ہے۔

اس مناسبت سے ہم ملکی فوج سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ صیہونی دشمن سے مقابلے کے لیے خود کو تیار رکھیں۔ وہ دشمن جس نے اپنی شکست کو تسلیم نہیں کیا ہے اور وقفہ وقفہ سے اپنی سن ۲۰۰۰ء اور ۲۰۰۶ء کی شکست کا انتقام لینے کے لیے آواز اٹھاتا رہتا ہے۔

جشن آزادی کے موقع پر ہم ایک بار پھر ان تمام مجاہدوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جنہوں نے ثابت قدمی دکھائی اور ہم انکے جہاد‘ شہدا اور جبل عامل، بقاع غربی اور ملک کے مختلف علاقوں میں استقامت کی یاد بھی تازہ کرتے ہیں اور ان سے گزارش کرتے ہیں کہ اس دشمن کے مقابلے پر ہمارا ہدف اصل اور اہم نکتہ ہو۔

پس ضروری ہے کہ اس روش کو جاری رکھیں۔ یہاں تک کہ لبنان طاقتور ہو اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کے لیے نمونہ عمل ثابت ہو۔

***