تقویٰ

از:مرجع دینی آیت اللہ سیّد محمد حسین فضل اللہ ۔ قدس سرہ

تقویٰ
قرآن مجید میں ارشاد اقدس الٰہی ہے:۔
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل (قیامت) کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو یقیناًوہ تمہارے اُن سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔ اور اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے انہیں خود اپنا آپ بھلا دیا۔ یہی لوگ فاسق ہیں۔
(سورۂ حشر: آیت ۱۸ تا ۲۰)
اس آیت میں پروردگار عالم مومنین کو ماضی سے عبرت لینے کے ساتھ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مومنین کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال پر ایک نگاہ ڈالیں اور دیکھیں کہ واجبات کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی؟ مثلاً کیا انہوں نے اپنے واجبات انجام دیئے ہیں؟ اور کیا وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آتے ہیں؟ کہیں انہوں نے ان کا استحصال تو نہیں کیا جیسا کہ طاقتور کمزوروں کا استحصال کرتا ہے؟ اس کے بعد مومنین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ دیگر مسلمانوں کے ساتھ اُن کے تعلقات کیسے ہیں؟ ماضی میں ان کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے رہے ہیں؟ کیا ہم نے ہر ایک کو ان کا حق دے دیا ہے؟ اور کیا ہم نے تمام مسلمانوں کی عظمت، طاقت اور اتحاد کو برقرار رکھنے کی خاطر اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کی رہنمائی اور سرپرستی کی ہے تاکہ تمام مسلمان خود کو ایک جسم خیال کرتے ہوئے ایک دوسرے کے دُکھ درد کو محسوس کرسکیں؟ قرآن مجید میں آیا ہے کہ اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو تاکہ تم اپنے بارے میں اور ماضی کے حالات کے بارے میں جان سکو۔ پروردگار کے یہاں ہمارے تمام اعمال محفوظ ہیں چنانچہ اگر ہمارا ماضی اچھا ہوگا تو اس کا بہترین اجر ملے گا اور اگر ماضی اچھا نہیں ہوگا تو اس کی سزا ملے گی جس کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے کہ قیامت کے دن لوگ مختلف جماعتیں بن کر اُٹھیں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
’’پس جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اُس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی وہ اُس کو دیکھ لے گا۔‘‘ (سورۂ زلزال:آیت ۶ ۸)
انسان کا ہر عمل فرشتے اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔ ارشاد الٰہی ہے:
’’جب وہ کوئی کام کرتا ہے تو وہ کاتب اُس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز لکھ رہے ہیں۔ کوئی لفظ اُس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔‘‘ (سورۂ ق: آیت ۱۷۔ ۱۸)
اس دن ہر ایک اپنا نامۂ اعمال پڑھ لے گا۔ کیا اچھا ہو کہ اسے ہم اپنی زندگی ہی میں پڑھ لیں تاکہ اپنے اعمال میں بہتری پیدا کرسکیں۔
دنیا، آخرت کی کھیتی ہے۔ جو کچھ آج ہم دنیا میں بورہے ہیں اس کا پھل ہمیں آخرت میں ملے گا گویا مستقبل بھی ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے اسی لیے خداوند عالم فرماتا ہے کہ ہر کسی کو غور کرنا چاہیے کہ اُس نے آخرت میں نجات کے لیے کیا بھیجا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی آخرت کی فکر آج ہی کرنی چاہیے اور ان اعمال کو انجام دینا چاہیے جو آخرت میں ہمارے کام آئیں۔ جب کوئی نیا سال آئے چاہے وہ عیسوی ہو یا ہجری تو ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم نے پچھلے سال سے کیا سبق سیکھا۔ کیا ہمارا نیا سال پچھلے سال سے بہتر نہیں ہونا چاہیئے؟
آیئے سوچیں پچھلے سال ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو کتنا نبھایا؟
کیا ہم نے علمی، روحانی اور فکری لحاظ سے کوئی ترقی کی ہے؟
کیا ہمارے تقویٰ میں اضافہ ہوا ہے؟
کیا ہم نے خاندان اور ملک و قوم سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا ہے؟ سال کے آخر میں ہمیں آنے والے نئے سال کے متعلق منصوبہ بندی کرلینی چاہیئے مگر افسوس صد افسوس کہ زیادہ تر لوگ سال نو کی آمد پر تمام حقیقتوں سے بے خبر ہوکر موج مستیوں میں غرق رہتے ہیں۔ یوں یہ لوگ نئے سال میں اندھوں کی طرح کسی منصوبہ بندی کے بغیر داخل ہوتے ہیں۔
تاجر حضرات سال کے آخر میں اپنا حساب کتاب چیک کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ سال بھر میں انہوں نے کتنا نفع کمایا اور کہاں کہاں نقصان اُٹھایا تاکہ اگلے سال ایسے نقصانات سے بچ سکیں۔ یاد رکھیں! مالی نقصان کا ازالہ کسی نہ کسی طریقے سے ممکن ہے مگر جب کوئی آخرت کا نقصان کرلیتا ہے تو وہ اپنے دین اور ایمان کو کھودیتا ہے جس کا ازالہ دنیا کی کوئی چیز نہیں کرسکتی۔
امام زین العابدین ؑ صبح و شام یہ دعا پڑھا کرتے تھے اور یہی دعا نئے مہینے اور نئے سال کے آغاز میں پڑھنے کے لیے ہے:
’’اے اللہ! یہ نیا دن (موجود) ہے اور یہ ہم پر گواہ ہے۔ اگر ہم نیکی کریں گے تو ہمیں سراہتا ہوا رخصت ہوگا اور اگر بدی کریں گے تو مذمت کرتا ہوا جدا ہوگا۔ اے اللہ! تو محمد ؐ اور آل محمد ؑ پر رحمت نازل فرما اور عطا فرما ہم کو اس دن کی نیک رفاقت اور ہمیں اس دن کے بُرے طور پر جدا ہونے سے محفوظ رکھ یعنی ارتکاب معصیت سے یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کرنے سے محفوظ رکھ اور ہمیں اس دن میں بہت سی نیکیاں عطا کر اور بُری باتوں سے دور رکھ اور پھر ہمارے لیے اس دن کے دونوں سروں یعنی صبح و شام کے درمیان حمد و شکر اور ثواب اور نیکیوں کا ذخیرہ اور اپنا فضل و احسان نصیب فرما۔‘‘
اے اللہ! تُو ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم نیکیوں پر عمل کریں، برائیوں کو چھوڑ دیں، تیری نعمتوں کا شکر ادا کریں اور سنت رسول ؐ پر عمل کریں۔ بدعتوں سے الگ تھلگ رہیں اور نیک کاموں کا حکم دیں اور بُرے کاموں سے بچیں۔ اسلام کی حمایت کریں اور باطل کو کچلیں اور اسے رسوا کریں۔ حق کی نصرت کریں اور اسے سر بلند کریں۔ گمراہوں کی رہنمائی، کمزوروں کی اعانت اور درد مندوں کی چارہ جوئی کریں۔
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جس طرح سے ہر نئے دن کا آغاز اس کی اطاعت سے کیا جائے اسی طرح سے نئے سال کا آغاز بھی حق پر قائم رہنے، صبر و استقامت، عدل و انصاف اور عقل و شعور کی دعا کے ساتھ کیا جائے۔
ہمیں سال نو کے آغاز پر اللہ سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرمائے اور مسلمانوں کے مابین اتحاد میں اضافہ فرمائے اور ہمیں ایسی طاقت عطا فرمائے جس سے ہم اللہ اور اس کے رسولؐ کے دشمنوں کا مقابلہ کرسکیں۔ اے اللہ! ہم مسلمانوں کو جسد واحد قرار دے تاکہ اگر اس جسم کے کسی ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرے۔
ہم تمام مسلمانوں سے گزارش کرتے ہیں کہ استعماری طاقتوں سے ہوشیار رہیں جو ہمارے درمیان تفرقہ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپس میں اتحاد اور بھائی چارے کی فضا کو قائم رکھیں، ان کے منصوبوں کو خاک میں ملائیں اور اسلام کو ناقابل شکست بنائیں۔
یہ مغربی طاقتیں جو مسلمانوں کو ثقافتی اور ایمانی اعتبار سے کمزور کرنے کی کوششیں کررہی ہیں ان کا مقابلہ صرف ایک صورت میں ممکن ہے کہ ہم طاقتور بن جائیں تاکہ ہم اسلام اور ملت اسلامیہ کی حفاظت کرسکیں۔ ہمیں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل اور قوت و اتحاد کے لیے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔