دعا تقربِ خدا کا باعث ہے

خداوند متعال قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ(اور تمہارے پروردگار کاارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔سورۂ غافر۴۰۔آیت۶۰)اور ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے:ْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ(تو میں ان سے قریب ہوں ‘پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں‘ جب بھی پکارتا ہے‘ لہٰذا مجھ سے طلبِ قبولیت کریں اور مجھ ہی پر ایمان واعتماد رکھیں کہ شاید اس طرح راہِ راست پر آجائیں۔سورۂ بقرہ۲۔آیت۱۸۶)اور فرماتا ہے: قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْ لااَا دُعَآؤُکُم فَقَدْ کَذَّبْتُمْ فَسَوْفاَا یَکُوْنُ لِزَامًا(آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوتیں تو پروردگار تمہاری پروا بھی نہ کرتا ‘تم نے اس کے رسول کی تکذیب کی ہے تو عنقریب اس کا عذاب بھی برداشت کرنا پڑے گا۔سورۂ فرقان۲۵۔آیت۷۷) 


ان آیاتِ الٰہی میں دعا کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔دعا انسان کے خداوند متعال سے قریب ہونے کا موجب ہوتی ہے۔انسان دعا کے ذریعے اپنے پروردگار سے گفتگو کرتا ہے اور اُس سے مناجات کرتا ہے۔اسکے پاس اپنی شکایات لے جاتا ہے‘اور اُس سے اپنی حاجات طلب کرتا ہے۔جبکہ خداوند عالم انسان کے نفس پر گزرنے والی ہر چیز سے آگاہ ہوتا ہے۔خدا انسان کی تمناؤں‘خواہشوں اور مشکلات سے آگاہ ہے ۔کیونکہ وہ واحد ہستی جو انسان کی مشکلات کو حل کر سکتی ہے‘اُس کے دکھوں کو دور کرسکتی ہے اور اُس کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے‘وہ خداوند عالم کی ہستی ہے۔یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کسی کتاب سے پڑھ کردعا مانگے‘بلکہ ہر ایک کو اپنی زبان سے دعا مانگنی چاہئے۔جب کسی دکھ یا کسی مصیبت سے دچار ہو‘تو اپنے پروردگار کی طرف رخ کرے اور کہے:بارِ الٰہا!میں دکھی ہوں۔ہرایک کو چاہئے کہ وہ اپنے خدا سے اپنے خاص انداز سے گفتگو کرے ‘تاکہ اسے خدا کے ساتھ گفتگو کے دوران کوئی مشکل محسوس نہ ہو۔اسی طرح نماز خدا کی طرف مومن کی معراج ہے۔دعا بھی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے انسان خدا سے نزیک ہوتا ہے‘اور اُس سے تقرب کی کوشش کرتا ہے۔


دعا مدرسۂ علم واخلاق

ہمارے پاس اسلامی میراث میں دعاؤں کا ایک گرانقدر سرمایہ ہے۔ان میں سے بعض دعائیں قرآنی ہیں۔خداوندعالم اپنے پیغمبر کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ وہ اُس سے دعا مانگیں کہ وہ اُن کے علم میں اضافہ کرے۔کیونکہ علم وہ نور ہے جسے خدا ہر اس دل میں قرار دیتا ہے جو اس کا طالب ہو: وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا(پروردگار میرے علم میں اضافہ فرما۔سورۂ طہ ۲۰۔آیت۱۱۴)یہ آیت اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے علم میں اضافہ کرے۔کیونکہ علم انسان کی قدر وقیمت جانچنے کا ایک پیمانہ ہے: قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لااَا یَعْلَمُوْنَ(کہہ دیجئے کہ کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہوجائیں گے جو نہیں جانتے ہیں۔سورۂ زمر۳۹۔آیت۹) پس خدا وندعالم نے زیادہ علم رکھنے والے شخص کو کم علم رکھنے والے شخص پر برتری دی ہے۔کیونکہ علم انسان کی عقل کو روشنی بخشتا ہے‘اس کے قلب میں وسعت پیدا کرتا ہے اور اسکی زندگی کو راہِ راست پر گامزن کرتا ہے۔ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں پڑھتے ہیں کہ:رَبِّ ہَبْ لِیْ حُکْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ وَ اغْفِرْ لِاَبِیْآا اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ وَ لااَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ یَوْمَ لااَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لااَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اﷲَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ(خدایا مجھے علم وحکمت عطا فرما اور مجھے صالحین کے ساتھ ملحق کردے‘اور میرے لئے آئندہ نسلوں میں سچی زبان اور ذکرِ خیر قرار دے‘اور مجھے جنت کے وارثوں میں سے قرار دے‘اور میرے مربی کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے‘اور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا جب سب قبروں سے اٹھائے جائیں گے‘جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا‘مگر وہ جو قلبِ سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو۔سورۂ شعراء۲۶۔آیت۸۳تا۸۹) 


امام زین العابدین علیہ السلام کی دعاؤں میں ‘خواہ وہ صحیفۂ سجادیہ کی کوئی دعا ہو‘ خواہ دعائے ابو حمزہ ثمالی ہو‘ہم اُ ن دعاؤں میں تربیتی نکات اور خداوند متعال کی طرف توجہ کا مشاہدہ کرتے ہیں۔مثال کے طور پر دعائے ابو حمزہ ثمالی میں دیکھتے ہیں کہ امام انسان کو اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ وہ کس طرح خداوندعالم کی نافرمانی اور معصیت پر ندامت اور پشیمانی کو اپنی زبان پر لائے:’’الہٰی لم اعصک حین عصتیک وانا بربوبیتک جاحد ولابامرک مستخف ولا لعقوبتک متعرض ولا لو عیدک متھاون ولکن خطءۃ عرضت وسولت لی نفسی وغلبنی ھوای واعاننی علیھا شقوتی وغرنی سترک المرضی علی۔‘‘ یہ امور میرے نفس عمارہ کی وجہ سے تھے ۔اسکے بعد انسان خداوند عالم سے سوال کرتا ہے کہ وہ اسکے گناہوں کو بخش دے اور اس کو گواہ بناتا ہے کہ وہ اب بھی اسکی توحید کا پابند ہے‘اور اسکی رحمت کا امیدوار ہے۔اسی طرح دعائے افتتاح میں استجابتِ دعا میں تاخیر کا مسئلہ بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ:’’فان ابطاعنی عتبت بجھلی علیک ولعل الذی ابطاعنی خیر لی لعملک بعاقبۃ الامور۔‘‘پس وہ تمام چیزیں جنہیں تم خدا سے طلب کرتے ہووہ تمہارے بھلے اور فائدے میں نہیں ہیں۔دعاؤں میں ہم پڑھتے ہیں کہ خدا مستضعفین کو بلند کرتا ہے اور مستکبرین کو پست بناتا ہے۔اس حالت میں انسان محسوس کرتا ہے کہ مستضعف انسان ٹھکرایا اور دھتکارا ہوا انسان نہیں ہے۔بلکہ خدا اسے مناسب ذرائع اور حالات فراہم کرکے بلندی بخشتا ہے‘اسے بلندی عطا کرتا ہے۔اور مستکبرین بھی مطلق طاقت اور تسلط کے مالک نہیں ہیں اور خدا انہیں نیچا دکھا کے اپنی حکمت کے مطابق ان کی قدرت اور منزلت میں کمی کرتا ہے۔ 


ماہِ رمضان کی دعا میں ایک اہم نکتہ پایا جاتا ہے۔وہ نکتہ یہ ہے کہ انسان کو دوسروں کے بارے میں سوچنا چاہئے۔فرماتے ہیں:اللھم ادخل علی اھل القبور السرور۔(انسان مر جانے والے لوگوں کی فکر کرتا ہے‘جب وہ خدا کے یہاں جائیں گے ‘تو کیا خدا کی رحمت اور مغفرت حاصل کرسکیں گے یا نہیں؟اسکے بعد خدا سے دعا کرتا ہے کہ بارِ الٰہا !انہیں بخش دے)اللھم اغن کل فقیر۔( سوچنا چاہئے کہ فقر وافلاس کی مشکل کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے)اللھم اشبع کل جائع۔(خدا سے دعا کرنی چاہئے کہ کوئی ایسی راہ نکالے جس سے بھوکوں کے پیٹ بھر جائیں)اللھم اکس کل عریان۔اللھم اقض دین کل مدین۔اللھم فرج عن کل مکروب۔اللھم رد کل غریب۔اللھم فک کل اسیر۔اللھم اصلح کل فاسد من امورالمسلمین۔( دنیا کے تمام مسلمانوں کی مشکلات اور مسائل کے بارے میں فکرمند ہونا چاہئے اور ان کے ناگوار سیاسی‘اجتماعی اور فکری حالات کا جائزہ لینا چاہئے اور خدا سے دعا کرنی چاہئے کہ ان کی حالت کی اصلاح فرمائے‘اور انہیں فساد اور تباہی سے نجات دے) اللھم سد فقرنا بغناک اللھم غیر سوء حلنا بحسن حالک ۔اللھم افض عنا الدین واغننا من الفقر انک علی کل شی ء قدیر۔


ان تمام دعاؤں میں بعض جملے ہمیں خداکی طرف متوجہ کرتے ہیں اور بعض انسانوں سے مربوط کرتے ہیں۔اس طریقے سے ہمارا اُن تمام لوگوں سے ایک قسم کا تعلق برقرار ہوجاتا ہے جو مسائل ومشکلات کا شکار ہیں‘اور اسلام اور مسلمانوں کے تمام مسائل سے ہمارا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔لہٰذا دعا ایک قسم کی فکری‘اجتماعی اور سیاسی حالت میں تبدیل ہوجاتی ہے‘کہ انسان اسے پڑھ سکے‘اور اس کے ذریعے خدا کی طرف متوجہ ہوجائے۔اس صورت میں وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ خدا کی طرف حالتِ پرواز میں ہے‘اور اسکے ساتھ ہی ساتھ وہ زندگی کے کسی شعبے اور انسانی مسائل سے دور نہیں ہوا ہے۔


پس ہمیں چاہئے کہ خدا کی دعوت کا مثبت جواب دیں‘جس میں وہ فرماتا ہے : وَ قَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ (اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعاکرو میں قبول کروں گا۔سورۂ غافر۴۰۔آیت۶۰)اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا ہم سے انتہائی نزدیک ہے‘اور ہماری تمام آرزؤں‘دکھوں اور خواہشات میں ہم سے بہت زیادہ نزدیک ہے۔یہ مسئلہ اس بات کا باعث ہوتا ہے کہ خدا پر ہمارا ایمان مضبوط ہوجائے۔ماہِ رمضان کے اختتام کی بھی ایک دعا ہے:’’اللھم ان کنت رضیت عنی فی ھذاالشھرفازددعنی رضی وان لم تکن قد رضیت عنی ھمن الان فارض عنی۔‘‘ایک اور دعا میں ہے کہ :اللھم ادعنا حق مامضی من شھررمضان واغفر لنا تقصیرنا فیہ وتسلمہ منا مقبولا ولانؤاخذباسرافنا علی انفسنا واجعلنا من المرحومین ولا تجعلنا من المحرومین۔‘‘ 


خدا وندعالم سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اسکی محبت‘ رحمت اوررضوان حاصل کریں‘اسلام ومسلمین کی مدد فرمائے‘ مجاہدین کو توفیق عنایت فرمائے‘مسلمان قیدیوں اور مجاہدین کو رہائی بخشے کہ وہ مہربانوں میں سب سے زیادہ مہربان ہے۔

——