فاطمہ زہراعلیہاالسلام تمام مسلمانوں کے نزدیک محترم ہیں

از : آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ۔ قدس سرہ
.

الحمد للّٰہ رب العالمین‘والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد وآلہ الطیبین واصحابہ المنتجبین وعلیٰ جمیع انبیاء اللّٰہ المرسلین۔

حضرت فاطمہ زہرا ؑ کاتذکرہ

سیدہ ‘طاہرہ‘ معصومہ فاطمہ زہرا علیہاالسلام کے بارے میں حدیث میں بیان ہوا ہے کہ: فاطمہ عالمین کی عورتوں کی سردارہیں‘ فاطمہ مومنین کی عورتوں کی سردار ہیں‘ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔ احادیثِ رسول ؐ میں فاطمہ زہراؑ کی ایسی ہی اوردوسری عظمتیں بیان ہوئی ہیں۔

خاتونِ جنت اگرچہ اپنے سنِ شباب سے تجاوز نہ کرسکیں‘ لیکن آپ نے اپنی شخصیت کے ظاہری اور باطنی عناصر کے ذریعے اپنے عہد کے لوگوں کی محبت اور عقیدت حاصل کی۔

اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کی نسوانی شخصیت تمام مسلمانوں کے نزدیک مقدس اور محترم ہے۔ چنانچہ جب ہم مسلمان (سنی‘ شیعہ) علما کی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں‘ تو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی ممتاز شخصیت اور آپ کی صفاتِ حمیدہ بیان کرتے ہوئے‘ آپ کا نام محبت اور احترام کے ساتھ لیتے ہیں۔

لہٰذا ہم مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مذہبی اختلاف کے باوجود‘ آپ کو تمام مسلمانوں کے سامنے ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کرسکتے ہیں‘ جس کے حضور تمام مسلمانوں کے سر احترام سے جھکتے ہیں۔ البتہ اس لیے نہیں کہ وہ رسول کی بیٹی ہیں‘ بلکہ اس لیے کہ فاطمہ ؑ نے اپنی سیرت وکردار کو رسولِ مقبول کی سیرت وکردار میں ڈھال لیا تھا۔

حضرت عائشہ نے آپؑ کی توصیف میں فرمایا 

فاطمہ زہرا علیہاالسلام کی شخصیت اور آپ کی سیرت وکردار کو آپ کے والد رسولِ مقبول ؐ کی زوجہ حضرت عائشہ اس طرح بیان کرتی ہیں :

’’مارأیت احداً من الناس أشبہ کلاماً وحدیثاً برسول اللّٰہ(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) من فاطمۃ کانت اذا دخلت علیہ رحبّ بھا وقبّل یدیہا وأجلسہا فی مجلسہ‘فاذا دخل علیہا قامت الیہ ورحبّت بہ وقبّلت یدیہ۔‘‘ (بحارالانوار، ج۴۳ ص۲۵ باب۳۱ روایت۲۲)

’’میں نے اندازِ گفتگو میں کسی کو رسولؐ سے اتنا مشابہ نہیں دیکھا جتنا فاطمہ ؑ رسولؐ سے مشابہ تھیں۔ جب فاطمہ ؑ خدمتِ رسولؐ میں حاضر ہوتی تھیں‘ تو انھیں آنحضرتؐ خوش آمدید کہتے تھے‘ آپ کے دونوں ہاتھوں کو چومتے تھے‘ اپنی جگہ بٹھاتے تھے اور جب رسولؐ ان کے یہاں تشریف لے جاتے تھے‘ تو وہ آپؑ کی تعظیم کے لیے کھڑی ہوجاتی تھیں‘ آپ کو خوش آمدید کہتی تھیں اور آپؐ کے دونوں ہاتھوں کو چومتی تھیں۔ ‘‘

دوسری روایت میں ہے کہ :

’’تمشی ما تخطیء مشیتھا مشیۃ رسول اللّٰہ‘‘(بحارالانوار، ج۳۵ ص۲۳۰باب۵ روایت۳۴)

’’فاطمہ زہراؑ رسولؐ کی مانند چلتی تھیں‘ آپ ؐہی کی طرح قدم اٹھاتی تھیں۔ ‘‘

ایک حدیث میں یہاں تک آیا ہے کہ آپ ؑ شکل وصورت میں بھی رسولؐ سے مشابہ تھیں۔ لیکن جب ہم آپ ؑ کی شخصیت کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں‘ تو معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح فاطمہ زہرا ؑ نے اپنے آپ کو رسولِ مقبولؐ کی سیرت میں ڈھالا تھا‘ اس کی مثال کم ہی ملتی ہے ۔

آپ ؑ کے بچپن کا زمانہ 

اپنے بچپن میں آپ ؑ اپنے والد رسولِ مقبولؐ کے ساتھ ساتھ رہتی تھیں۔ جب رسولؐ نماز کے لیے تشریف لے جاتے‘ تو فاطمہ ؑ بھی آپ کے ساتھ ہوتی تھیں۔ حالانکہ بعض مورخین کے بقول اس وقت آپ کی عمر محض پانچ برس تھی‘ جبکہ بعض مورخین نے اس وقت آپ کی عمر زیادہ سے زیادہ دس برس لکھی ہے۔

فاطمہ زہراؑ مسجد میں رسولِ کریمؐ پر اور آپ کے اردگرد موجود اُن مشرکین پر نظر رکھتی تھیں جو آپ کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ ایک روز انھوں نے دیکھا کہ مشرکین آپ کی پشتِ مبارک پر اوجھڑیاں ڈال رہے ہیں‘ یہ دیکھ کر آپ روتی ہوئی دوڑیں اوراُس غلاظت کو آپ کی پشت سے اٹھاکر دور پھینک دیا۔ جیسا کہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں‘ صحیح ابن حبان سے نقل کیا ہے۔ ایک روز رسول نے دیکھا کہ فاطمہؑ گریہ کررہی ہیں‘ آنحضرتؐ نے دریافت کیا: بیٹی کیوں رو رہی ہو؟ عرض کیا: مجھے یہ محسوس ہورہا ہے کہ ابوجہل وغیرہ آپ کو قتل کرنے کی سازش تیار کررہے ہیں۔ رسولِ مقبول ؐ نے آپ کو تسلی دی۔ فاطمہ زہراؑ اپنے والد سے تعلیم حاصل کرتی تھیں اور اپنی محبت سے اپنے والد کو اتنا سرشار رکھتی تھیں کہ آپ کے والد نے آپ کے بارے میں فرمایا: ’’اِنّھا ام ابیہا‘‘۔

جیسے مکہ میں ویسے ہی مدینہ میں

ہم دیکھتے ہیں کہ محبت وعقیدت کا یہ سلسلہ مدینہ تک جاری ہے۔ آپ نے بھی مدینہ میں رسولِ مقبولؐ کے ساتھ رہنے کی غرض سے ہجرت کی۔ آپ آنحضرت ؐ کے ہمراہ اُن کی جنگ میں‘ اُن کی صلح میں اور اُن کی دعوت میں اپنی ذمے داریاں ادا کرتی رہیں۔ چنانچہ فاطمہ ؑ کا گھر رسولؐ کا گھر تھا۔ جب رسولِ مقبولؐ کی کسی سفر سے واپسی ہوتی‘ تو پہلے آپ فاطمہ زہراؑ کے گھر تشریف لاتے‘ اس کے بعد اپنے گھر جاتے اور جب آپ کسی سفر کے لیے نکلتے‘ توسب سے آخر میں فاطمہ زہراؑ کے گھر سے وداع ہوتے۔

فاطمہ زہراؑ کو محسوس ہوجاتا تھا کہ رسولِ مقبولؐ کو کونسی چیز پسند آرہی ہے اور کونسی چیز ناگوار گزر رہی ہے ۔ رسولِ کریم بھی ان پر اپنی محبت والفت نثار کرتے تھے اور اپنی بیٹی کو دل سے چاہتے تھے۔

آنحضرت کو خدا نے جو روحانیت عطا کی تھی اس کے سبب آپ فاطمہ ؑ کے باطن کو جانتے تھے۔آپ دیکھتے تھے کہ آپ کی بیٹی اور آپ کی شاگرد کس طرح رات کے سنّاٹے میں بارگاہِ خداوندی میں گریہ وزاری کرتی ہے۔ رسولِ مقبولؐ فاطمہ ؑ کی گفتگو کو دیکھتے تو انھیں تمام مسلمانوں سے سچا پاتے۔ اس بات کی گواہی زوجۂ رسول ؐ حضرت عائشہ نے بھی دی ہے‘ وہ کہتی ہیں :
’’
مارأیت احداً کان اصدق منہا الّا الذی ولدہا۔‘‘ (بحارالانوار، ج۴۳ ص۶۸ باب۳ روایت۶)

’’میں نے کسی کو فاطمہ سے زیادہ سچا نہیں دیکھا‘ ماسوا اُن کے والد کے۔ ‘‘

یہ صداقت فاطمہ ؑ نے اپنے پدرِ بزرگوار سے سیکھی تھی‘ کیونکہ وہ اللہ کے سچے ترین رسول ہیں اور آنحضرتؐ صادق و امین تھے اور قرتی بات ہے کہ فاطمہؑ بھی انتہائی سچی اورتمام معنی میں امانتدار تھیں۔

فاطمہ زہراؑ رسولِ مقبولؐ کی ہم فکر تھیں‘ انھوں نے رسولِ کریمؐ کے مدرسے کے سوا کسی مدرسے میں قدم نہیں رکھا اور جو کچھ سیکھا خانۂ رسولؐ ہی سے سیکھا۔ فاطمہ زہراؑ ایسے علوم ومعارف کی حامل تھیں‘ جس کی مثال ہمیں مسلمانوں کے اُس دور میں علی ؑ کے سوا کہیں اورنہیں ملتی ۔

فاطمہ ؑ کی علمی شخصیت

اکثر اہلِ قلم کی مشکل یہ ہے کہ انھوں نے فاطمہ زہراؑ کی علمی شخصیت کا مطالعہ نہیں کیا ہے اور جب ہم ان کلمات اور خطبوں کو دیکھتے ہیں جو تاریخ نے بیان کیے ہیں اور ان میں موجود خصائص کا علمی اعتبار سے مطالعہ کرتے ہیں‘ تو ہمیں نظر آتا ہے کہ ان میں معارفِ توحید‘ معارفِ نبوت‘ اسلامی تحریک کے معارف اور وہ اجتماعی تہذیب موجود ہے جس کے سائے میں رسولِ مقبولؐ کے ساتھ رہنے والے مسلمان زندگی بسر کرتے تھے اور بحث ومباحثے کا وہ انداز بھی موجود ہے جو اس زمانے کے مسائل کے بارے میں قرآنِ مجید کی محکم دلیلوں سے استدلال کی صورت میں رائج تھا۔

جب فاطمہ زہراؑ حضرت علی ؑ کے حق کے تحفظ کے لیے گفتگو کرتی ہیں‘ تو آپ کی گفتگو کوئی جذباتی انداز کی گفتگو نہیں ہوتی‘ بلکہ آپ علمی‘ فکری اور خارجی حقائق کی روشنی میں گفتگو کرتی ہیں۔ ہم مفکرین اور اہلِ قلم کو فاطمہ زہراؑ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے مطالعے کی دعوت کے ساتھ ساتھ اُن کی علمی شخصیت کے مطالعے کی بھی دعوت دیتے ہیں۔ ہمیں آپ کی شخصیت کے روحانی پہلو کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے‘ جو خدا کے ساتھ آپ کے تعلق پر مبنی ہے۔ علاوہ از ایں ہمیں آپ کے علمی‘ جہادی اور سیاسی افکار کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

عالمین کی عورتوں کی سرداری

عزیزو ! جب ہم لفظ سیدۃ نسا العالمین کو دیکھتے ہیں، تو اس سے آپ کی شخصیت کے وہ خصائص و کمالات جلوہ گر نظر آتے ہیں جن کے ذریعے ایک خاتون امتیاز حاصل کرتی ہے اور جو ایک عورت کا درجہ بلند کرتے ہیں، حتیٰ وہ بلندی کی آخری حدوں پر فائز ہوجاتی ہے۔ کیونکہ عالمین کی عورتوں کی سردار ہونا، کوئی ایسا منصب اور مقام نہیں، جو آپ کو اہلیت و استحقاق کے بغیر دیا گیا ہو، بلکہ یہ مرتبہ آپ کی شخصیت کی اس شرافت اور عظمت کی بنا پر عطا کیا گیا ہے جس کو خدا جانتا ہے۔

***