فرقہ پرستی کی لعنت اور اس کا علاج

ؒ از آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ

ہمارا عرب اور اسلامی خطہ، آج مسلمانوں کے درمیان شیعہ اور سنی کی بنیاد پر فرقہ پرستی اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی فتنہ انگیزی کے رجحانات کا شکار ہے۔ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عالمِ اسلام اور دنیائے عرب پر فرقہ پرستی کے فتنے یا خانہ جنگی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے خطرے کو ہوا دے رہی ہے جس سے کوئی دین، قوم اور فرقہ محفوظ نہیں رہے گا۔

سوال یہ ہے کہ: آخر کیا وجہ ہے جو ہماری دنیا میں فکری اور عملی و سعت کی جانب آگے بڑھنے کی بجائے فرقہ پرستانہ تحریکوں کے لئے حالات سازگار ہورہے ہیں؟ آخر کیوں فرقہ پرستی علاقائی اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے استعمال کے لیے ایک ہتھیار بن گئی ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے تفرقہ پھیلا پاتے اور ایک ہی دین کے ماننے والوں یا ایک ہی ملک کے باشندوں کے درمیان دوریاں پیدا کرپاتے ہیں؟

آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ اس قدر بے شعوری کے ساتھ عمل کرتے ہیں اور اپنی قوم اور اپنے وطن کے لئے اپنے ہاتھوں مشکل پیدا کرتے ہیں؟ ان سوالات کے جواب دینے کے لئے چند نکات کا ذکر ضروری ہے۔

1 ۔ بعض دینی قائدین خصوصاً ایسی سیاسی تحریکوں کے قائدین جو حقوق کے حصول کی بنیاد پر کام کرتی ہیں، ان کی قیادت و رہنمائی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی تحریک کے مقاصد، اس کے لائحہ عمل اور اسکے موقف کی تفہیم کے لیے اس بات کی کوشش نہیں کرتے کہ لوگ عقل سے کام لیں۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر دینی اور مذہبی گفتگوئیں سطحی اور ضروری گہرائی سے عاری ہوتی ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا سبب بنتی ہے کہ لوگ اس روش کے عادی ہوجاتے ہیں اور اپنی زندگی کے تمام اُمور میں اسی روش کی پیروی کرتے ہیں۔
کیونکہ ہماری دینی اور مذہبی گفتگو کا اندازیہی ہے، ہماری اکثر سیاسی گفتگوئیں بھی سطحی، کھوکھلی اور لوگوں کی عقلوں کو حقیر سمجھنے والی ہوتی ہیں۔ لوگ بھی اس قسم کی گفتگوؤں کے عادی ہوچکے ہیں اور اُن لوگوں پر تنقید اور اعتراض کرتے ہیں جو گہری سوچ بچار کے بعد عمل کرتے اور لوگوں کے جذبات و احساسات کی بجائے اُن کی عقول کو مخاطب کرتے ہیں۔

خطرناک ترین بات یہ ہے کہ بعض لوگ بغیر لیاقت اور قابلیت کے دینی اور سیاسی قیادت کے منصب پر براجمان ہیں۔ ایسے حضرات لوگوں کے خلوص سے غلط فائدہ اُٹھاتے ہیں اور لوگوں کو سطحی اندازِ فکر پر باقی رکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر لوگوں نے گہرائی کے ساتھ سوچنا شرع کردیا اور ان کی کمزوریاں لوگوں پر واضح ہوگئیں، تو پھر وہ اُن سے اپنا احترام نہیں کرواسکیں گے اور لوگ اُن کی قیادت قبول نہیں کریں گے۔

2 ۔ مشرقی اور تیسری دنیا کے لوگوں کی ذہنیت کچھ ایسی ہے کہ وہ سیاسی اور اجتماعی مسائل کا جائزہ عقلانیت سے دور ہوکر لیتے ہیں۔ اس بناء پر کسی شخص، جماعت، تحریک، برادری یا قومیت سے ان کا تعلق جذبات و احساسات کی بنیاد پر ہوتا ہے اور وہ کچھ تاریخی، سیاسی اور خاندانی تعصبات کے تابع ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اس گونا گونی اور تعدد کو وحدت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے تعقل کی نشوونما کے خاتمے کے لیے ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ گروہ بندیاں اس گروہ کے اندر اور باہر قابلِ توجہ اقدار کے حال لائحہ عمل سے عاری ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ روش مزید منفی نقاط کا سبب بن جاتی ہے اور لوگوں کو سطحی رکھنے والی ایک غلط تربیتی روش کو دوام بخشتی ہے۔

3 ۔ لوگوں میں فرقہ پرستی یا تعصب کی روح پیدا کرنا، اس بات کا باعث بنتا ہے کہ سیاسی تحریکیں سیاسی تنازعات کو مذہبی رنگ دے دیں اور معاملات کے حوالے سے حقیقی اور واضح نکتۂ نظر سے عاری لوگوں کے لیے میدان کو غبار آلود کردیں۔ جب حاکم قوتیں، اپنی عوامی تائید سے محروم ہوکر حکمرانی کا جواز کھو بیٹھتی ہیں، تو اپنی پوری قوت کے ساتھ ان چیزوں کو اُبھارتی ہیں اور مذہبی، قومی، لسانی اور علاقائی حساسیتوں کو ہوا دیتی ہیں اور ان کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ مذہبی، گروہی، قومی اور جغرافیائی وابستگیوں سے فائدہ اُٹھاکر لوگوں کی نظر میں اپنے احترام میں اضافہ کریں۔ اس طرح سیاسی تنازعات دین اور وطن کے مسائل بن جاتے ہیں اور ان کی جگہ جذباتی تعصبات لے لیتے ہیں جو عقل کو اندھا کرکے انسان کو واضح اور صاف طور پر دیکھنے سے باز رکھتے ہیں۔

4 ۔ جو چیز حالات کے بہت زیادہ بحرانی ہونے پر منتج ہوئی ہے، وہ تکفیری عناصر کا ظاہر ہونا ہے۔ تکفیری عناصر دینی مضامین میں فہم اور حرکت اور روش کی بنیاد کے تعین کے سلسلے میں سطحی اندازِ فکر کا شکار ہیں۔ بالخصوص جو لوگ اپنے مخالف فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی غلطیوں کو بنیاد بناکر لوگوں کو اُبھارنے اور انہیں اُکسانے کے لیے مذہبی رنگ سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور جنہوں نے قابض قوتوں کے خلاف مزاحمت کا نعرہ بلند کیا ہوا ہے۔ اس مسئلے نے تکفیری عناصر کے لیے سازگار حالات فراہم کردیئے ہیں اور اس بات کا سبب ہوا ہے کہ ان کی حمایت کرنے والے سطحی انداز سے سوچتے ہیں اور ان کے افعال کا تنقیدی جائزہ لینے کا رجحان کمزور پڑگیا ہے۔ جو چیز اور بھی زیادہ خطرناک ہے وہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے رہنما، عوام سے خوف کھاتے ہیں اور اپنی دینی اور مذہبی گفتگوؤں میں لوگوں کی سوچ کے خلاف کوئی بات نہیں کرتے۔ اس طرح عوام قائدین کے رہنما بن گئے ہیں، رہنما عوام کے قائد نہیں رہے۔ آخرکار تعصبات ہی تقدس کا رنگ اختیار کرلیتے ہیں، جن میں عقل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

اس بنیاد پر ہم سب کو چاہئے کہ اپنی ذمے داریوں پر عمل کریں اور کوشش کریں کہ اپنی دینی اور مذہبی فکر کو عقلانیت پر مبنی بنائیں اور دین اور مذہب سے اپنے رشتے کو رجعت پسندی اور تعصب سے دور رکھیں۔ یہ کام دینی اور مذہبی میدانوں میں مشترکہ اصولوں سے وابستگی اور مطالعے کے ذریعے انجام پائے گا، یہاں تک کہ اختلافات جو انسان کی فطرت کا حصہ ہیں کہ حل و فصل کے لیے گفتگو ایک مثالی طریقہ بن جائے۔ اس طرح ہم اختلاف کو مختلف رنگوں کے ایک حسین امتزاج اور تکثر کو ایک سرمائے میں بدل سکیں گے۔ ان مشترکہ اصولوں کا وجود اس بات کا باعث بن جائے گا کہ ہر کام کا جائزہ اور تجزیہ کچھ خارجی اور منطقی عناصر کے تابع ہوجائے گا اور فساد کو مذہب، خیانت کو قوم پرستی اور جرم و جنایت کو سیاسی حکمتِ عملی کا نام نہیں دیا جاسکے گا۔ کیونکہ فساد کا کسی دین، مذہب اور قوم سے تعلق نہیں ہوتا اور خیانت، جنایت، ظلم اور گمراہی بھی اسی طرح ہے اور ان چیزوں کا کوئی دین مذہب اور قوم نہیں ہوتی۔

لہٰذا ضرورت یہ ہے کہ ہم سب اس بات کی کوشش کریں کہ دنیائے اسلام اور عالمِ عرب میں سیاسی، اجتماعی اور مذہبی میدانوں میں اپنی جماعتی اور گروہی وابستگیوں کو تعصب کا رنگ نہ دیں بلکہ ہمارے اجتماعی کاموں میں مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر گفت و شنید کی فضا حاوی رہے۔

۔۔۔۔۔