راہِ حسین ؑ راہِ افتخار

السلام علیک یا ابا عبد اللّٰہ الحسین

از : آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ۔ قدس سرہ

’’پیغمبر خدا ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ حسین ؑ مجھ سے ہے اور میں حسین ؑ سے ہوں۔ خدا اُس سے محبت کرتا ہے جو حسین ؑ سے محبت کرتا ہے۔ ‘‘

میں چاہتا ہوں کہ امام حسین ؑ کی شخصیت پر کچھ روشنی ڈالوں اور آپ کے انقلابی اور اصلاحی پہلوؤں پر بات کروں۔ امام حسین ؑ نے ہمیشہ عزت و افتخار کی اہمیت اور اسلامی عقائد و ثقافت اور شریعت کے مضامین و مفاہیم کی طرف اُمت کو متوجہ کیا۔ آپ ؑ نے انسانوں خاص کر مومنوں کی عزت افزائی کے لئے رہنمائی کی اور لوگوں کو اپنے ارادے اور مقاصد کے حصول کی راہ میں کسی بھی طاقت سے نہ ڈرنے اور نہ جھکنے کا سبق دیا۔ بالفاظ دیگر آپؑ نے انسانوں کو یہ درس دیا کہ وہ کسی بھی غیر شرعی قوت کے آگے سر تسلیم خم نہ کریں کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ انسان شرعی امام اور قائد کے ساتھ اور دین اسلام کے ساتھ وابستہ رہے اور غیر شرعی امام اور قائد کو نہ مانے، اس لیے کہ اسلام میں غیر شرعی امام اور قائد کا سرے سے کوئی تصور نہیں ہے۔

آج ہم امام حسین ؑ کی عظیم شہادت کا ذکر کرتے ہوئے انہیں اپنے درمیان محسوس کرتے ہیں۔ اگرچہ آپؑ کی شہادت کو چودہ سو سال گزر چکے ہیں اس کے باوجود آپؑ تاریخ کے ہر موڑ پر عظیم روحانی رہنما کی طرح رہنمائی کرتے نظر آتے ہیں۔ سوچنے والے دماغ، محبت کرنے والے دل اور ظلم کا مقابلہ کرنے والے افراد آج بھی آپؑ کی ذات سے الہام حاصل کرتے ہیں۔

شہیدِ اُمت

ہمارا ایمان ہے کہ امام حسین ؑ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ خدا گواہ ہے کہ ہم مُردہ سمجھ کر اُن کی یاد نہیں مناتے کیونکہ آپؑ اسلام کے انقلابی رہنما، امام اور زندۂ جاوید شہید ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ آپؑ کو آپؑ کے باصفا اہل بیتؑ اور اصحاب کے ساتھ کربلا میں شہید کردیا گیا اور وہیں آپؑ کو دفن کردیا گیا مگر آپؑ پوری اُمت اسلامیہ کے شہید ہیں۔ آپؑ کو کربلا کی جغرافیائی حدود میں محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ آپؑ کا تعلق پوری دنیا سے ہے اس لیے کہ آپؑ مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کی اصلاح کے لئے نکلے تھے۔

امام حسین ؑ اپنے بھائی امام حسن ؑ کی معاویہ کے ساتھ ہونے والی صلح کے پابند تھے مگر معاویہ کی موت کے بعد یہ صلح غیر مؤثر ہوگئی تھی۔ جب مدینہ کے گورنر ولید نے آپؑ کو یزید کی بیعت کے لیے کہا تو آپؑ نے اسے اہل بیتؑ کی شان و منزلت بتائی اور آیۂ تطہیر پڑھی۔ پھر فرمایا :

’’اِنَّااَھْلُ بَیْتِ النُّبُوَّۃِ وَمَعْدِنُ الرِّسَالَۃِ وَمُخْتَلَفُ الْمَلَاءِکَۃِ وَبِنَا فَتَحَ اللّٰہُ وَبِنَا خَتَمَ اللّٰہُ وَیَزِیْدُ رَ جُلٌ فَاسِقٌ شَارِبُ الْخَمْرِ قَاتِلُ النَّفْسِ الْمُحَرَّمَۃِ مُعْلِنٌ بِالْفِسْقِ وَمِثْلِیْ لَایُبَایعُ مِثْلَہُ وَلٰکِنْ نُصْبِحُ وَتُصْبِحُوْنَ وَنَنْظُرُوْنَ اَیُّنَا اَحَقُّ بِالْبَیْعَۃِ وَالْخِلَافَۃِ۔ ‘‘

’’ہم اہل بیتؑ نبوت ہیں، ہم رسالت کا معدن ہیں اور ملائکہ ہمارے ہاں آمد ورفت رکھتے ہیں۔ اللہ نے ہدایت کا سلسلہ ہم سے شروع کیا اور ہم ہی پر ختم کیا اور یزید فاسق اور شرابی ہے۔ وہ لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور علانیہ فسق و فجور کا ارتکاب کرتا ہے۔ مجھ جیسا اُس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا چنانچہ ہم صبح کا انتظار کریں گے اور تم بھی صبح تک انتظار کرو۔ ہم بھی دیکھیں گے اور تم بھی دیکھو گے کہ ہم میں سے کون بیعت اور خلافت کا زیادہ حق دار ہے۔‘‘  (بحارج ۴۴، ص ۳۲۴)

کون ہے جس نے آپؑ کی طرح اسلام اور قرآن پر پوری طرح عمل کیا؟ اور اُمت کی اصلاح احوال کے لیے اپنا خون دیا؟ کون ہے وہ جس کے بارے میں رسول خدا ؐ نے فرمایا تھا کہ یہ اور ان کے بھائی حسن ؑ جوانانِ جنت کے سردار ہیں اور یہ اور ان کے بھائی حسن ؑ امام ہیں چاہے جنگ کریں، چاہے صلح کریں۔

امامت کے بارے میں تاکید

جب امام حسین ؑ مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے تاکہ وہاں لوگوں کو بتائیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم صرف اپنی عبادت سے غرض رکھو اور اپنے مسلمان بھائیوں کے معاملات سے لاتعلق ہو جاؤ۔ تمہیں عبادت میں، اطاعت میں، سیاست میں، حکومت میں اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کی طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ اسلام زندگی کے کسی ایک پہلو کا نہیں بلکہ تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

’’یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَا کُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ۔‘‘

(سورۂ انفال: آیت ۲۴)

’’اے ایمان والو! اللہ اور اُس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسول تمہیں اُس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔ ‘‘

مکہ میں امام حسین ؑ نے شرعی امامت و قیادت کے بارے میں تاکید فرمائی اور خالصتاً اسلام کے لیے کام کرنے والے مخلص افراد کی ایک ایسی جماعت بنانے کا ارادہ کیا جن کے دل مال و زر، حرص و ہوس اور دوسری آلائشوں سے پاک ہوں۔ چنانچہ آپؑ نے اپنے اہل بیتؑ اور اصحاب باصفا پر مشتمل جماعت بنائی جنہوں نے آخری سانس تک اپنا عہد نبھایا اور کربلا میں آپؑ کے ساتھ جام شہادت نوش کرکے لازوال تاریخ رقم کی۔

امام حسین ؑ نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور پیغمبر خداؐ کے ارشادات کی روشنی میں مسلم حکمراں کی خصوصیات اور اُس کی ذمے داریاں بتائیں۔ آپؑ نے فرمایا کہ رسول للہؐ کا فرمان ہے :

’’مَنْ رَاٰی سُلْطَانًا جَاءِرًا مُسْتَحِلًّا لِحُرُمِ اللّٰہِ نَا کِثًا لِعَھْدِ اللّٰہِ مُخَالِفًا لِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ یَعْمَلُ فِی عِبَادِ اللّٰہِ بِالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ثُمَّ لَمْ یُغَیِّرْ بِقَوْلٍ وَلَا فِعْلٍ کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یُدْخِلَہُ مَدْخَلَہُ۔ ‘‘

’’جو شخص ظالم حکمران کو حرام چیزوں کو حلال کرتے ہوئے، اللہ کے عہد کو توڑتے ہوئے، سنت رسولؐ کی مخالفت کرتے ہوئے، بندگان خدا کے ساتھ برائی اور ظلم کرتے ہوئے دیکھے اور وہ اپنے قول و فعل سے اُس حکمران کو نہ روکے تو اللہ کا یہ حق ہے کہ اُس کو بھی ایسے فرمانروا کے ساتھ جہنم میں ڈال دے۔‘‘

(بحار الانوار ج ۴۴، ص ۳۸۱)

اس کے بعد آپؑ نے لوگوں سے فرمایا کہ اُن پر لازم ہے کہ وہ اپنے وعدوں کا پاس کریں اور حق کا ساتھ دیں۔

جب لشکر حُر سے امام حسین ؑ کی مڈبھیڑ ہوئی تب بھی آپؑ نے حُر اور اُس کے لشکر کو حق کی پیروی کرنے اور شرعی امام اور حاکم کی مدد کرنے کی تلقین کی تھی۔ آپؑ نے حُر اور اُس کے پیاسے لشکر کے ساتھ جو اعلیٰ اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کیا تھا اُس کی وجہ سے کربلا میں حُر یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ وہ غلط قائد کی قیادت میں حق سے دور ہورہا ہے۔ چنانچہ وہ روزِ عاشور امام حسین ؑ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں اور اللہ سے توبہ کرنا چاہتا ہوں اور آپؑ کے ساتھ دشمن سے لڑنا چاہتا ہوں۔

اصلاح اور عزت کے خواہشمند

امام حسین ؑ نے اپنی تحریک کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ میں جنگ کرنے نہیں نکلا ہوں۔ اگر امام حسین ؑ کا مقصد جنگ ہوتا تو آپؑ کے ساتھ ہزاروں کا لشکر ہوتا۔ آپؑ کی تحریک کا مقصد لوگوں کے دل و دماغ میں موجود جہالت اور انحرافات کے خلاف جنگ کرنا تھا۔ آپؑ اپنے نانا کی طرح حامل رسالت تھے اور فرماتے تھے:

’’اَللّٰھُمَّ اھْدِ قَوْمِیْ فِاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ ‘‘

’’خدا یا میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ یہ (میرا مقام و مرتبہ) نہیں جانتی۔ ‘‘ 
آپؑ یزید کے لشکر والوں کے بارے میں بھی فکر مند تھے کہ یہ لوگ یزید کا ساتھ دینے کی وجہ سے واصل جہنم ہوں گے۔

آپ ؑ نے صاف فرما دیا تھا کہ :

’’اَنِّیْ لَمْ اَخْرُجْ اَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا وَ اِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْاِصْلَاحِ فِیْ اُمَّۃِ جِدِّی اُرِیْدُ اَنْ آمُرَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَنْھٰی عَنِ الْمُنْکَرِ وَاَسِیْرَ بِسِیْرَۃِ جَدِّیْ وَاَبِیْ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ فَمَنْ قَبِلَنِیْ بِقَبُوْلِ الْحَقِّ فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِالْحَق۔ ‘‘

’’میں سرکشی اور جدال و قتال کے ارادے سے نہیں نکل رہا ہوں اور نہ ہی میرا مقصد فساد پھیلانا یا کسی پر ظلم کرنا ہے بلکہ میں تو اپنے نانا کی اُمت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ میری غرض فقط امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور اپنے نانا اور بابا کی پیروی ہے۔ پس جو کوئی اللہ کی خاطر میری دعوت قبول کرتا ہے تو اللہ کا حق سب پر فائق ہے۔ ‘‘   )بحار الانوار ج ۴۴، ص ۳۲۹ (

امام حسین ؑ کی اس تحریک کا مقصد بھی انبیاء و مرسلین کی طرح معاشرے کی اصلاح کرنا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا تھا۔ جب لوگوں نے آپؑ کو غاصب اور غیر شرعی قائد اور حاکم کی بیعت پر مجبور کرنا چاہا تو آپؑ نے یہ کہہ کر بیعت سے انکار کردیا :

’’لَا وَاللّٰہِ لَا اُعْطِیْکُمْ بِیَدِیْ اِعْطَاءَ الذَّلِیْلِ وَلَا اَفِرُّ فِرَارَ الْعَبِیْدِ۔‘‘

(بحار الانوار ج ۴۴، ص ۱۹۱)

’’خدا کی قسم! نہ تو میں ذلیلوں کی طرح اپنا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دوں گا اور نہ غلاموں کی طرح بھاگوں گا۔ ‘‘ 

اور یہ کہ ’’اَلَا وَ اِنَّ الدَّعِیَّ ابْنَ الدَّعِیِّ قَدْ رَ کَزَ بَیْنَ اثْنَتَیْنِ بَیْنَ السِّلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ وَھَیْھَاتَ مِنَّا الذِّلَّۃُ یَاْبَی اللّٰہُ ذَالِکَ لَنَا وَرَسُوْلُہ‘ وَالْمُؤْمِنُوْنَ۔ ‘‘

’’دیکھو! اس مادر بخطا (ابن زیاد) نے ہمیں مجبور کردیا ہے کہ ہم دو میں سے ایک راستہ اختیار کریں۔ یا تو تلوار سونت کر میدان میں نکل آئیں یا ذلت و خواری قبول کرلیں( تاکہ اس کا جو جی چاہے، ہمارے ساتھ کرے) لیکن ہم ہرگز ذلیل نہیں ہوسکتے۔ خدا، اس کے رسولؐ اور مردانِ با ایمان کو ہماری بے عزتی منظور نہیں۔‘‘ (لہوف ص ۹۷)

امام حسین ؑ نے اپنی پوری زندگی حریت و عزت اور اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کردی تھی۔ آپؑ اپنے بابا علی مرتضیٰ ؑ کی طرح خدا اور اُس کے رسولؐ سے انتہائی محبت کرتے تھے اور خدا اور اُس کا رسول ؐ بھی آپ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ آپؑ انسانوں کو یہ درس دینے کے لیے کربلا میں آئے تھے کہ کس طرح ایک صاحب رسالت و امامت شخص اپنا خون دے کر اپنی رسالت و امامت کو باقی رکھتا ہے۔

ظلم و استکبار سے انکار

امام حسین ؑ کی شہادت عظمیٰ کے ذکر کے موقع پر جہا ں ہم آپ ؑ کو اپنا امام اور محبوب قائد مانتے ہیں وہاں ہمیں ہر قسم کے ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور ظالموں کی قیادت و سیادت سے انکار کردینا چاہیے۔ آپؑ کی یاد منانے کا مقصد اسلام کے دفاع، اسلام کی عزت اور کرامت کے لیے دی جانے والی قربانی اور اس راہ میں بہائے جانے والے آپؑ کے خون کو یاد کرنا ہے۔ ہمیں امام حسین ؑ کے ذکر کو محض رسمی طور پر اور دوسروں کی تقلید کرتے ہوئے نہیں منانا اور نہ محض اپنے سر اور پشت پر ضرب لگاتے ہوئے منانا ہے بلکہ ہمیں اس ذکر سے جذبہ اور حرارت حاصل کرتے ہوئے خدا اور انسانیت کے دشمنوں، ظالموں اور ظالم حکمرانوں کے سروں پر ضرب لگانا ہے۔ ہمیں امام حسینؑ کے پیغام کے ساتھ تجدید عہد کرنا ہے اور امام ؑ سے یہ عرض کرنا ہے کہ آپؑ کی صدائے استغاثہ پر تو ہم اپنی جان نہ دے سکے مگر ہمارے دل اور ہماری روح آپؑ کے ساتھ ہے۔ ہم آپؑ کے پیغام پر قائم رہیں گے اور ہم آخری دم تک محمد ؐ و آل محمد ؑ کے ساتھ رہیں گے۔

’’اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ وَعَلٰی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَعَلٰی اَوْلَادِ الْحُسَیْنِ وَ عَلٰی اَصْحَابِ الْحُسَیْنِ۔ ‘‘
’’
ہمارا سلام ہوحسین ؑ مظلوم پر، اُن کے فرزند علی ؑ بن حسین ؑ پر، اُن کی اولاد پر اور اُن کے اصحاب باوفا پر۔ ‘‘ 

۔۔۔۔۔