اسلام آپ کی گردنوں پر امانت ہے

از : آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ۔ قدس سرہ

 ’’میں اسلام کے خدمت گزار اپنے بھائیوں اور بیٹوں کی توجہ اِس نکتے کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ہم اُس دور میں کھلے ذہن کے ساتھ اسلامی معارف اور حقائق کا مطالعہ کرتے تھے جب خود نجفِ اشرف میں بھی لوگوں کی ایک کثیر تعداد اپنے زمانے سے بہت پیچھے تھی۔ ہمارا تعلق ایک ایسی نسل سے ہے جس میں آیت اللہ شہید سید محمد باقر الصدرؒ اور بہت سے دوسرے علما شامل تھے۔ ہم انقلابی اور متحرک اسلام کی روشنی میں جدید طریقوں سے استفادے کے ساتھ ساتھ اسلامی فکر کے جوہر اور اصلیت کو محفوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کے تقاضوں اور ضروریات کے جواب دینے کی کوشش کرتے تھے۔ ہمارا تجربہ جس کے دوران ہم نے خون کی نہریں بہتی دیکھیں اور طرح طرح کے زخم کھائے‘ صعوبتوں کا سامنا کیا‘ گہرے زخموں سے بھر پور تجربہ ہونے کے باوجود ایک رہنما اور سودمند تجربہ ہے‘ جو مسلمانوں کی مشکلات اور مصائب کے حل کی راہیں دریافت کرسکتا ہے۔ ہم اِس بات کا دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم ہی نے اِس تجربے کی بنیاد رکھی ہے‘ لیکن اِس کی سرگرمیوں اور فعالیتوں میں ہمارا بڑا حصہ ہے۔ ہمارا تجربہ اِس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ اگر انسان روشن مستقبل پر نظر رکھے‘ خدا پر بھروسے اور اسلام پر ایمانِ کامل کا مالک ہو‘ اپنی تمام قوتوں کو کام میں لائے اور تمام موجود امکانات اور وسائل سے استفادہ کرے‘ تو خواہ دیر ہی سے سہی لیکن بہر صورت اپنی منزل پا لیتا ہے۔

ہم اپنے بعد آنے والی نسلوں سے کہنا چاہیں گے کہ ہمارا دور اگرچہ بہت سی خوبیوں سے مالا مال تھا لیکن آپ کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہمارے قوی اور ضعیف دونوں نکات کا جائزہ لیجیے۔ ہماری ذات کا مطالعہ نہ کیجئے‘ بلکہ ہمارے تجربات اور سرگرمیوں کا مطالعہ کیجئے‘ ہماری فکر کی چھان پھٹک کیجیے۔ ممکن ہے اِس میں آپ کو ایسے افکار بھی ملیں جن کی نشوونما ہم نے اپنے دور میں کی لیکن آپ اپنے دور میں اُنہیں اہم نہ سمجھیں کیونکہ وہ آپ کو آج طبیعی نظر آرہے ہوں‘ اِس لیے کہ آپ ایک ایسے اسلامی ماحول میں زندگی بسر کررہے ہیں جس میں یہ افکار عام ہوچکے ہیں اور آپ کی مثال ایک ایسے انسان کی سی ہے جو دوسروں کے لگائے ہوئے درختوں کا پھل کھاتا ہے۔ تاہم یہ بات ذہن نشین رکھئے کہ وہی فکر جو آج آپ کو عام اور معمولی نظر آرہی ہے اُسے ماضی میں معاشرے کی طرف سے بکثرت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ‘‘

اسلام آپ کی گردنوں پر ایک امانت ہے :

’’میں تمام احباب سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام آپ کی گردنوں پر ایک امانت ہے۔ اِس امانت کی حفاظت آپ پر فرض ہے۔ ہمیں کسی بھی مرحلے پر جمود اور ٹھہراؤ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اپنے پچھلے قائدین کی تعظیم و احترام ضرور کریں لیکن اِن ہی میں اٹک کر نہ رہ جائیں‘ کیونکہ کوئی رہبر و قائد کتنا ہی عظیم ہو لیکن اپنے مرحلے اور اپنے تجربات کا عکاس ہوتا ہے‘ جبکہ زندگی مراحل پر مراحل طے کرتی اور نوبہ نو تجربات کا سامنا کرتی ہے اور ماضی کے تجربات آپ کو نئے تجربات سے بے نیاز نہیں کردیتے۔ ‘‘

میرے خیال میں موجودہ نسل جس کا مقابلہ عالمی کفر سے ہے‘ اُسے رنج والم‘ مشکلات و مصائب جھیلنے ہیں۔ ہمیں اِس نسل پر فخر ہے اور ہم اِن سے چاہتے ہیں کہ کم سے کم غلطیوں کے مرتکب ہوں اور اپنی آگہی اور حرکت کے خلاف دشمن کی سازشوں اور منصوبوں سے ہوشیار ہوں۔ لہٰذا آپ کو چاہیے کہ خدا پر بھروسا کریں‘ تاکہ کسی کا خوف آپ کو لاحق نہ ہو اور اللہ رب العزت سے انس و محبت رکھیں تاکہ کسی کی وحشت آپ پر طاری نہ ہو‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معنوی تعلق برقرار کریں اور اخلاق‘ قوت اور تمام انسانوں اور پوری کائنات سے تعلق میں اِنہی کو نمونۂ عمل قرار دیں۔

ہم نسلِ رسالت ہیں‘ ہمیں اسلام کے لیے ہر مرحلے کے متناسب اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو برؤے کار لانا چاہیے۔ اسلام کو تمام نسلوں کی طاقتوں اور صلاحیتوں کی ضرورت ہے:

’’وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اﷲُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ۔‘‘ (اور پیغمبر کہہ دیجیے کہ تم لوگ عمل کرتے رہو کہ تمہارے عمل کو اللہ‘ رسول اور صاحبانِ ایمان سب دیکھ رہے ہیں۔  سورۂ توبہ۹۔آیت۱۰۵) ‘‘

***