بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

التطبیر [قمہ و زنجیر زنی]

آیت اللہ العظمی السید محمد حسین فضل اللہ [رح] کی نظر میں



سوال : آپ نے اور آیت اللہ خامنہ ای نے قمہ کی حرمت کے بارے میں جو فتوی دیا ہے، اس کو دینے کی کیا مصلحت ہے ؟

جواب: ہم پہلے انسان نہیں ہیں جنہوں نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے ہم سے پہلے سید محسن امین نے ایک علمی انداز سے اس مسئلہ کو اٹھایا تھا۔ ان کے خلاف ایک شور اٹھا، ان کے خلاف مہم چلی ۔ انھیں ایک علمی اور ادبی طریقہ سے رد نہیں کیا گیا۔

   ہمارے اوپر واجب ہے کہ ہم بھی حرمت کا فتویِ دیں۔ ہم جانتے ہیں کہ رجعت پسندی کے طغیان کی زد میں ہیں، لیکن ہم آمادہ ہیں کہ ان کا مقابلہ کریں۔ اسی طرح ابوالحسن اصفہانی نے بعد میں سید محسن امین کے اور سید مہدی قزوینی جو بصرہ میں رہتے تھے اور آیت اللہ بروجردی ، سید خمینی سب نے اس مسئلے کو اٹھایا ہے۔

   حتی کہ السید خوئی نے اپنے "مسائل الشرعیہ" جو ایک کتابچہ ہے جسے جماعت اسلامی نے امیرکہ میں نشر کیا ہے، میں قمہ کی حرمت کا فتوی دیا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ قمہ اور زنجیر مارنا جائز ہے یا نہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر اس سے مذہب کی بے حرمتی ہوتی ہو تو جائز نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ مذہب کی بےحرمتی کیسے ہوتی ہے، سید خوئی نے فرمایا کہ لوگ اس کا مذاق اڑائیں۔ ہم یہ احساس کرتے ہیں کہ یہ عمل تشیع کے چہرے کو مسخ کرنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ ہم معصوم نہیں، آپ آئیں، ہمارے ساتھ گفتگو کریں لیکن خواہ مخواہ حالات و ماحول خراب کرنا، بد زبانی کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، اس شور و غوغا کو پیغمبر ؐ کے سامنے رکھیں تو اسکی کیا قیمت ہے، ہم تو پیغمبرؐ کے قدموں کی مٹی ہیں، اسی طرح علی [ع] کے خلاف کئی مہم چلیں، ہم تو علیؑ کے قدموں کی مٹی ہیں، ان کے خلاف شورو غل اٹھا، وہ ختم ہو گیا، رسولؐ اب بھی باقی ہیں، علیؑ اب بھی باقی ہیں۔

   اگر آپ نے قمہ و زنجیر زنی کو فقہی حوالے سے موضوع گفتگو بنایا اور پہلے مرحلے میں اگر کہیں گے کہ ہم جانتے ہیں کہ بعض علماء نے حلیت کا فتوی دیا ہے اور کس بنیاد پر بعض علماء نے حرام قرار دیا، اس سلسلے میں علماء کے درمیان بحث و مباحثہ ہوا ہے اپنے نفس کو ضر پہنچانا حرام ہے جب تک موجب ہلاکت نہ بنے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ نفس کو نقصان پہنچانا حرام نہیں ہے جب وہ موجب ہلاکت ہو تو حرام ہونا چاہیئے۔

   چنانچہ میرزا النائینی ، السید خوئی ، آیت اللہ حکیم اور بعض دیگر فقہاء نے اس ضمن میں فتوی دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایک اور فتوی ہے کہتے ہیں کہ نفس کو ضر پہنچانا حرام ہے مگر اس صورت میں جہاں کوئی خاص مصلحت ہو، لہذا جائز نہیں ہے کہ آپ اپنے سر کو کسی بھی حوالے سے ماریں، جس طرح جائز نہیں کہ آپ اپنی آنکھ کو نکالیں، ہاتھ کو کاٹیں اگرچہ اس سے انسان کی ہلاکت نہیں ہوتی ہے۔ اس فتوی کے تحت اپنے نفس کو ضر پہنچانے کا عمل شعائر نہیں بن سکتا۔ شعائر کے لئے ضروری ہے کہ عمل بذات خود اپنی جگہ ہلال ہو۔ نفس کو ضر پہنچانا اگرچہ ہلاکت تک نہ پہنچے تب بھی حرام ہے۔ یہ مسئلہ عقلی ہے۔ لہذا ضر کا لفظ عقلاً قبیح ہے، ہاں حالت جہاد میں مسئلہ مختلف ہوتا ہے، اللہ نے حفظ امت، حفظ وطن کی خاطر دشمن کے مقاملے میں کھڑا ہونے کو حفظ ذات پر مقدم رکھا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خود کشی کرے کیونکہ خود کشی اور عمل خدائی میں فرق ضرور ہے۔

الندوہ / السید فضل اللہ /ج ۱/ ۴۵۹ تا ۴۶۰ / طبع بیروت

 

۔۔۔۔

 

کیا امام حسن ع زیادہ شادیوں کے خواہاں تھے ؟

 

سوال : بعض کا کہنا ہے کہ امام حسن ع زیادہ شادیاں کرتے تھے، یہاں تک کہ آپؑ کی شہادت کے موقع پر آپؑ کی تشیع کرنے والوں کی تعداد میں زیادہ تعداد آپؑ کی ازواج کی تھی۔ آپ بتائیں کہ اس شبہ کو کیسے رد کریں ؟

جواب: ہم اس کو اس قول سے رد کرتے ہیں کہ مسئلہ ازواج اس وقت اجتماع میں زیادہ عجیب و غریب تصور نہیں تھا، ضروری نہیں کہ ہمیشہ ازواج و طلاق نے ایک ذاتی خواہشات سے جنم لیا ہو یعنی انسان لذت و شہوت کے سامنے خاضع ہو کر شادی کرے ممکن ہے کہ وہاں کوئی خاص مصالح کا تقاضا ہو کہ زیادہ شادی کریں، آیا امام حسنؑ بعض زوجات کو طلاق دیتے تھے، اگر یہ بھی صحیح ہو جائے کہ وہ جملہ جو حضرت علیؑ نے امام حسنؑ کے بارے میں فرمایا کہ امام حسنؑ زیادہ شادیاں کرتے ہیں تو لوگوں نے کہا کہ ہم ان سے رشتہ قائم کرنے کو اپنے لئے شرافت سمجھتے ہیں، ان سے منسوب ہو کر رسول اللہؐ سے نسبت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس قول کو ایک عام ذہنیت بھی قبول نہیں کرتی لیکن بنیادی فکر یہ ہے کہ امام حسنؑ نے سو یا ایک سو پچاس شادیاں کی ہیں، اگر ایسا ہے تو ان کی اولادیں کہاں ہیں، کم سے کم 10 ، 20 اولادیں تو ہونی چاہیئے جبکہ ان کی اولاد جو ہم جانتے ہیں، اس کی تعداد بہت کم ہیں تو باقی کہاں گئی ۔

   بنی امیہ نے امام حسنؑ کے خلاف اس مسئلے کو اس لئے اٹھایا کہ آپؑ خلافت و حکومت کے لائق و سزاوار نہیں ہیں لہٰذا معاویہ نے اپنے ایک خط میں جو امام حسنؑ کے خط کے جواب میں لکھا ہے، اس میں سے آپؑ کے خلاف ایک یہ بھی اشکال اٹھایا کہ آپؑ زیادہ شادیاں کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امام حسنؑ کی ازواج جس انداز میں روایات میں پیش کی گئیں ہیں، یہ صحیح نہیں بلکہ آپؑ کی ازواج رسول اللہؐ کی مانند ہے جو بعض مصالح کی وجہ سے انجام پائی ہیں جو اخلاقی و روحانی اقدار سے دور نہیں ہیں۔ لہٰذا یہ اشکال بنی امیہ کی طرف سے پھیلایا جانے والا سیاہ پروپیگنڈہ ہے جو انھوں نے تاریخ میں چھوڑا ہے تاکہ معاویہ کو امام حسنؑ کی جگہ حکومت کے لئے زیادہ صالح قرار دیں۔ 

الندوہ / السید فضل اللہ /ج 9/ 601 / طبع بیروت

 

۔۔۔۔

افطار الی الیل


سوال : آپ نے فتویٰ دیا ہے کہ جیسے ہی سورج غروب ہوجائے انسان روزہ افطار کر سکتا ہے جبکہ آیت کریمہ یہ کہہ رہی ہے :
ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ’’اس کے بعد رات کی سیاہی تک روزہ کو پورا کرو۔‘‘ (بقرہ: 187) آپ کی کیا رائے ہے?

جواب: یہ صحیح ہے مگر رات سے کیا مراد ہے ? ہمارے نزدیک جیسے ہی سورج غائب ہوجائے، رات داخل ہو جاتی ہے۔ ہم معتبر سمجھتے ہیں کہ دن جو شروع ہوتا ہے سورج کے چمکنے سے اور جیسے ہی غروب ہوجاتا ہے دن ختم ہوجاتا ہے، فقط سورج غروب ہوجانے ہی سے رات کی ابتدا ہوجاتی ہے، آپ کیوں معتبر سمجھتے ہیں کہ رات اس وقت شروع ہوتی ہے جب اندھیرا پھیل جائے ? دن اس وقت آجاتا ہے جب سورج افق پر آجائے اور رات اس وقت آجاتی ہے جب سورج افق سے غائب ہوجائے، (سیدؒ مثال دیتے ہیں) ، (ان دونوں میں سے ہر ایک اُسی ساتھی سے نکلتا ہے اور ان کا صاحب ان سے نکلتا ہے) اور یہ رائے فقط ہماری رائے نہیں ہے بلکہ اکثر علماء کی بھی یہی رائے ہے لیکن انھوں نے اس بارے میں احتیاط کو اختیار کیا ہے۔

الندوۃ // سید فضل اللہ (ر) // ج 14 // ص 577 // طبع بیروت

 

۔۔۔۔

 

 

اسلامی تاریخی واقعات پر مبنی ڈراموں کی تیاری


سوال : واقعہ عاشورہ کو اسٹیج کرنے اور ایسی فلمیں بنانے کا حکم کیا ہے جن میں کچھ افراد اس واقعے میں موجود شخصیات کا کردار ادا کریں ؟

جواب : ظاہر بات ہے کہ عوام کی دینی روح، ثقافتی ذہنیت اور سیاسی تحریک سے تعلق رکھنے والی ہر مناسبت مثلاً عاشورا کو زمانے کی ترقی اور ابلاغ کے جدید ذرائع کی مناسبت سے پیش کیا جانا چاہیئے، کیونکہ کسی بھی نظریے کو انسانی وجدان اور اس کے شعور کی گہرائیوں میں اتارنے کے لئے اسے ایسے ذرائع سے پیش کرنا چاہیئے جو انسانی شعور، ادارک اور اسکے وجدان سے تعلق رکھتے ہوں، کیونکہ انسان کی تربیت کچھ اس انداز سے ہوئی ہے کہ زمانے کے ترقی یافتہ ذرائع کے ذریعے دوسروں کے افکار اسکی عقل میں داخل ہوتے ہیں، اور اس راستے سے اسکے عقائد بنتے ہیں ۔

   لہٰذا ہم مجالس امام حسینؑ جو ہر دور میں اور ہر خطہ زمین پر عوامی سطح پر عظیم مثبت نتائج کی حامل رہی ہیں، کہ روایتی طریقوں سے انعقاد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عزادری کو اسکے طریقوں اور پیغام رسانی وغیرہ کے لحاظ سے زیادہ سے زیادہ ترقی یافتہ بنانے کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ واقعہ عاشورہ کو اسٹیج کرنے کا جو طریقہ رائج ہے، اس میں اکثر مواقع پر انتہائی جام صورت میں اس واقعے کو صرف ایک حادثے کی شکل میں پیش کر دیا جاتا ہے، جس میں نہ گہرائی ہوتی ہے، نہ آفاقیت و تحرک اور نہ ہی عاشورا کے مفاہیم اور پیغامات، اور انہیں دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ ان میں واقعات کو ان کی روح کے بغیر پیش کیا گیا ہے اور اگر کسی پر یہ اسٹیج اثر انداز ہوتا بھی ہے تو صرف اسکے مصائب کی وجہ سے۔

   لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ عاشورا کو ہمارے دور سے متعلق کیا جائے۔ عاشورا جن اقدار کی طرف دعوت دیتا ہے ان کے ذریعے معاصر انسان سے اسکا رابطہ قائم کیا جائے اور عاشورا میں موجود مصائب کے ذریعے ان اقدار کو انسانی شعور کی گہرائیوں میں اتارا جائے۔

   واضح سی بات ہے کہ اس قسم کے نتائج کے حصول کے لئے جو عاشورا کو شیعی اور اسلامی پہلو کے علاوہ اسے انسانی اور آفاقی رخ بھی دیں، ہمیں عاشورا سے متعلق اسٹیج ڈراموں اور فلموں کے لئے ڈائیلاگ، اسکرپٹ، ڈائریکشن اور اداکاری کے شعبوں میں تخلیقی اور فنی صلاحیتوں کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔

 

 

موسیقی اور اسکا حلال یا حرام ہونا

 

سوال : موسیقی اور اسی طرح غنا کے بارے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں ، کیا کوئی فقہی رائے ایسی ہے جو اس نزاع کا خاتمہ کر دے ؟

جواب : جب ہم ان فقہی نصوص کا مطالعہ کرتے ہیں جن پر غنا کے حرام ہونے کی بنیاد کی حیثیت سے اعتماد کیا گیا ہے، تو دیکھتے ہیں کہ وہاں اس آیت کریمہ سے بھی استدلال کیا گیا ہے جس میں ارشاد الہیٰ ہے : وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيث 

ِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ : "لوگوں میں ایسا شخص بھی ہے جو مہمل باتوں کو خریدتا ہے۔" (سورہ لقمان/آیت 6)

  یا اس آیت کو بطور سند پیش کیا گیا ہے : وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ "اور مہمل باتوں سے اجتناب کرتے رہو۔" (سورہ الحج/آیت 30)

  ان آیات میں "لھوالحدیث" اور "قول الزور" کو غنا کے ایک مصداق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بعض احادیث میں بھی غنا کو باطل کے دائرے میں قرار دیا گیا ہے اور ایک دوسری حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ ایک شخص جو ہمسائے کی کنزوں کے گانے سنتا تھا، اسے استغفار کا حکم دیا گیا۔

   مذکورہ مباحث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ غنا اور موسیقی کے شرعی طور پر حرام ہونے کی بنیاد درج ذیل عناوین ہیں :

   یہ کہ غنا ایسا ہو جس کا لحن اور مضمون خدا کی یاد سے غافل کردے اور اس میں ہیجان خیز عناصر پائے جائیں ہم اس مقام پر اس بحث کے فقہی دلائل اور مبانی کا ذکر کرنا نہیں چاہتے کیونکہ اس کے لئے ایک طویل بحث درکار ہے، لیکن ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں ایسی موسیقی جو نفسانی خواہشات کی تحریک کا سبب نہ بنے، اور انسان کو ایسا بے خود نہ کردے کہ وہ اپنی طبیعی حالت سے خارج ہو جائے، نیز شہوت انگیز مضامین پر مشتمل نہ ہو تو اس بنیاد پر ممکن ہے کہ ایسی موسیقی کو حلال قرار دیا جاسکے۔

   وہ موسیقی جو کلاسیکی موسیقی کہلاتی ہے، اگر اس میں یہی شرائط موجود ہوں تو وہ بھی حلال ہے۔ اسی طرح مثبت جذبات ابھارنے والی یا رزمیہ موسیقی یا کلی طور پر ہر وہ موسیقی جو روح کو بلندی اور بالیدگی بخشے اور اعصاب کو سکون پہنچائے اسکے حلال ہونے کا بھی حکم لگایا جائے گا، بشرطیکہ مذکورہ بالا شرائط پر پوری اترتی ہو۔

   وہ فقہاء جنہوں نے غنا کے حرام ہونے کی شرائط میں اسکی مجالس فسق و فجور سے مناسبت کو شامل کیا ہے، ان کی مراد شائد یہی شرائط ہوں۔

۔۔۔۔

 


وقت افطار


سوال : اکثر اوقات ہمیں افطار پر مدعو کیا جاتا ہے، برادران اھل سنت کی طرف سے، کیا آپ کی رائے میں ہم ان کے ساتھ افطار کر سکتے ہیں ?

جواب: ہماری رائے میں اور اکثر علماء کی رائے کے مطابق ہمارے اور اھل سنت میں غروب پر کوئی اختلاف نہیں ہے اور وقت غروب یہی ہے کہ سورج کی ٹکیہ غروب ہوجائے۔ جو اختلاف ہے وہ مشرقی سرخی کے زائل ہونے پر ہے، اس بارے میں بعض علماء احتیاط کے قائل ہیں اور بعض احتیاط کے قائل نہیں ہیں۔ اس بارے میں میری رائے میں کوئی مانع نہیں ہے کہ انسان کو اہل سنت کی طرف سے افطار پر مدعو کیا جائے اور وہ اس وقت افطار کرے جب اھل سنت کرتے ہیں اور اس کا روزہ صحیح ہے اور افطار بھی صحیح ہے۔

الندوۃ // سید فضل اللہ (ر) // ج 12 // ص 584 // طبع بیروت

۔۔۔۔

 

 

سیاہ عمامہ شعار ہے یا سادات کے ساتھ منسوب ہے


سوال: کیا سیاہ عمامہ شعار ہے یا سادات کے ساتھ منسوب ہے ? اور کیا عام عالم دین اس کو پہن سکتا ہے?

جواب: یہ شعار ہے، تحقیق یہ ہے کہ سیاہ عمامہ شعار تھا تمام عباسیوں (اولاد عباس بن عبدالمطلب) اور علویوں یعنی اولاد علی (ع) کا، اور اب طریقہ تبدیل ہوچکا ہے، اس حیثیت سے جس کا نسب ذریت امام حسنؑ و حسینؑ تک پہنچتا ہے، وہ سیاہ عمامہ ذیب تن کرتا ہے اور جس کا نسب ذریت حسنؑ و حسینؑ تک نہیں پہینچتا وہ سفید عمامہ پہنتا ہے لیکن یہ سب پیروی میں کیا جاتا ہے (یعنی خاص اس طریقہ پر نص نہیں ہے) ورنہ نبی اکرم (ص) بعض اوقات سرخ عمامہ ذیب تن کرتے تھے اور اپنے آخری اوقات میں سفید عمامہ پہنتے تھے، اور یہاں پر لباس کے بارے میں ایسی کوئی حد بندی نہیں ہے۔

الندوہ // سید فضل اللہ (ر) // ج 17// ص470 // طبع بیروت

۔۔۔۔

 

 

مشہور کی مخالفت


سوال : بعض افاضل کے بقول آپ مشہور کے مخالف ہیں۔ مشہور کے کیا معنی ہیں؟ معین اصول کے تحت کیا مشہور کی مخالفت معیوب اور ناپسندیدہ سمجھی جاتی ہے ؟

جواب: مشہور، فقہاء کی وہ اکثریت ہے جن کی کسی ایک فتوے کے بارے میں کیسا رائے ہو۔ یہ اتفاق رائے متاخرین کے یہاں بھی نظر آتا ہے، جسے "مشہور متاخرین" کہا جاتا ہے۔ اصولیوں کے درمیان معروف ہے کہ کسی فتوے کی شہرت بذات خود حجت نہیں ہوتی یعنی وہ کسی ایسے حکم کے استدلال کی بنیاد نہیں بن سکتی جو کتاب و سنت سے شرعی دلیل نہ رکھتا ہو لیکن ان کے علم پر اعتماد، ان کے فقہی مقام و منزلت کے احترام اور ان کے گرد خاص حالات و عوامل کے حصار نے نفسیاتی لحاظ سے ان کی مخالفت کو ممنوع اور مردود کر دیا ہے۔ اس حد تک کہ گویا قول مشہور کا مخالف فقاہت کی راہ مستقیم سے بھٹک گیا ہے، لیکن ہمارے پاس قول مشہور کے لئے کوئی فقہی بنیاد نہیں ہے کیونکہ فقہائے مشہور کا احترام اور ان کی آراء کو بلا چوں و چرا مان لینا دو علیحدہ باتیں ہیں۔
   ہم معتقد ہیں‌کہ فقہائے مشہور کی آراء کی مخالفت میں عجلت سے کام نہیں لینا چاہیئے کیونکہ ان کا معروف علمی مقام ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ان حضرات کے پاس اپنے فتاویٰ کے لئے لازماً مضبوط دلائل ہونگے لیکن ساتھ ہی ہمیں اس نکتے پر بھی متوجہ رہنا چاہیئے کہ مشہور فقہاء نے بھی بہت سے فتاویٰ میں ایک دوسرے کی مخالفت کی ہے اور ایک دوسرے کی آراء پر تنقید کی ہے۔ پس پھر ہمیں کیوں مشہور فتاویٰ میں ان کی مخالفت کا حق نہ ہو جبکہ ان کے دلائل ہمارے سامنے ہیں اور ان دلیلوں میں کمزور و ضعیف ہر قسم کی دلیلیں شامل ہیں۔ یہ فقہاء بھی خطاوں سے معصوم نہ تھے اور ان کی فقہی آراء پر بھی علم فقہ کا اختتام نہیں ہوگیا ہے۔

۔۔۔۔

 

 

سوال: کیا حدیث کساء [مفاتیح الجنان میں جو مروی ہے] صحیح السند ہے ؟

جواب: ہمارے نزدیک حدیث کساء احادیث متواترہ میں سے ہے لیکن جو حدیث کساء مفاتیج الجنان میں مروی ہے، اس کی سند صحیح نہیں ہے۔ اس کی سند میں کثیر موارد ایسے ہیں جو اس کی سند کو صحیح ثابت نہیں کرتے۔ حدیث کساء سے جو کچھ ہمیں حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نبی اللہ [ع] نے تمام اھل بیت [علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ و حسینؑ] کو چادر کے نیچے جمع کیا اور ان پر (سورہ احزاب/۳۳) کی یہ آیت نازل ہوئی : ’’إِنَّمَا يُرِيدُ الله لِيُذْهِبَ عَنْكُمْ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا۔‘‘ (بس اللہ کا ارادہ یہ ہے اے اہلبیت علیہ السّلام کہ تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے)، اور ام سلمہ سے کہا کہ تم خیر پر ہو مگر اھل بیت میں سے نہیں ہو، یہ حدیث صحیح ہے جسے شیعہ و سنی سب نے روایت کیا ہے لیکن جو حدیث کساء بعض لوگ پڑھتے ہیں جو کہ مفاتیح الجنان میں ملحق مروی ہے، وہ سند کے لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔

۔۔۔۔

 

 

شیعیت اور مذہب جعفری

 

سوال : آپ کا کہنا ہے کہ شیعہ امامیہ کے عقیدے کے مطابق مذہب جعفری کو شیعیت سے نسبت دینا کوئی خاص درست بات نہیں ہے۔ آپ اپنی رائے کی تفسیر کس طرح کریں گے ؟ 

جواب: آپ جانتے ہیں کہ اھل سنت کے چار مذاہب ہیں، جن کے نام شافعی، حنبلی، مالکی اور حنفی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ مذہب تشیع، مذہب جعفری ہے، لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ ہمارے آئمہ معصومین (ع) دوسرے مجتہدین کی مانند مجتہد نہیں ہیں، اس لئے کہ مثلاً ابوحنیفہ (حتیٰ اپنے پیروکاروں کی نظر میں بھی) خطا بھی کرتے ہیں اور ان کی بات درست بھی ہوتی ہے، اسی طرح ابن حنبل اور دوسرے مجتہدین جن کی اھل سنت تقلید کرتے ہیں، ویسے ہی ہیں جیسے شیعوں کے یہاں آقائے خمینیؒ اور آقائے خوئیؒ کی وہ تقلید کرتے ہیں۔

   اھل سنت کے مذاہب اربعہ کے آئمہ کو جو لوگ مجتہد سمجھتے ہیں، وہ ان کی تقلید کرتے ہیں، جبکہ ہم جو آئمہ اھل بیت (ع) کی پیروی کرتے ہیں، اُسکا سبب یہ ہے کہ ہم اُن کی عصمت پر عقیدہ رکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خطا کے مرتکب نہیں ہوتے، یوں ہمارے آئمہ (ع) صاحب مذہب نہیں ہیں، مذہب ابوحنیفہ ایک نکتہ نظر کا نام ہے جس میں خطا و صواب کا امکان پایا جاتا ہے لیکن مذہب امام جعفر صادق (ع) کی حیثیت کسی نکتہ نظر کی سی نہیں ہے جس میں خطا و صواب کا امکان ہو بلکہ یہ ہمیشہ صواب ہے۔

   امام جعفر صادق (ع) کا ارشاد ہے : ’’میرا کلام میرے والد کا کلام ہے، میرے والد کا کلام فرمایا ہوا میرے دادا کا کلام ہے، میرے دادا کا کلام حسینؑ کا کلام ہے، حسینؑ کا کلام حسنؑ کا کلام ہے، حسنؑ کا کلام امیر المومنینؑ کا کلام ہے، امیرالمومنین علیؑ کا کلام رسول اللہؐ کا کلام ہے اور رسول اللہؐ کا کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔‘‘

(بحار الانوار، ج 22،ص187، روایت:28،باب: 23)

   لہذٰا جب ہم کسی مسئلے کے بارے میں امام جعفر صادق (ع) کا کلام سنتے ہیں، تو گویا ہم رسول اللہ (ص) کا کلام سنتے ہیں، جس میں لغزش اور خطا کا کوئی امکان نہیں۔ 
   مذہب شیعہ کوئی اجتہادی مذہب نہیں ہے، جس میں اھل سنت کے مذاہب کی مانند خطا وصواب کا امکان پایا جائے، بلکہ مذہب اسلام ہے، قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔ 
   ’’سامنے یا پیچھے کسی طرف سے باطل اسکے قریب آہی نہیں سکتا۔‘‘

(سورہ فصلت ،آیت 42)

   ہم اپنی گفتگو میں گاہ بگاہ "الائمہ رواۃ" یعنی آئمہ راوی ہیں کہ جو اصطلاح استعمال کرتے ہیں، اُس سے مراد جیسا کہ علامہ سید محمد نقی الحکیم نے اپنی کتاب الاسول العامتہ للفقہ المقارن میں بھی کہا ہے، یہ نہیں ہے کہ آئمہؑ دوسرے راویان حدیث کی مانند حدیث‌ کے ناقل ہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ حضرات اپنےکلام کو ہمیشہ کلام رسولؐ سے مستند کرتے ہیں اور چاہے روایت کی صورت میں اور چاہے عام استناد کی شکل میں، انہوں نے اپنی طرف سے کوئی بھی ایسی چیز بیان نہیں کی ہے جو رسول اللہؐ کے کلام کے برخلاف ہو، انہوں نے اپنے نظریات اسلام کے اصل پاک و پاکیزہ سر چشمے سے حاصل کئے ہیں، اسکے سوا، ان کی فکر کا کوئی اور منبع و ماخذ نہیں ہے، اور انہوں نے کوئی اجتہاد نہیں کیا ہے، جس میں خطا یا صواب کا امکان و احتمال پایا جائے۔

۔۔۔۔

 

 

سینہ زنی کی شرعی حیثیت


سوال : آپ سخت قسم کی سینہ زنی کو حرام سمجھتے ہیں ؟ اس قسم کی سینہ زنی سے آپ کی کیا مراد ہے ؟ کیا عام طور پر رائج سینہ زنی بھی حرمت کے حکم میں شامل ہے ؟

جواب: ہم یقین رکھتے ہیں کہ اپنی ماہیت اور خاصیت کی بنیاد پر سینہ زنی غم و اندوہ کے اظہار کا ایک بہترین ذریعہ ہے اور ہم ماتمی دستوں میں لوگوں کی سینہ زنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اسے ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لیکن جو سینہ زنی گریہ وزاری کی طرح انسان کے غم و اندوہ کی علامت ہے، اُس سے مراد وہ سینہ زنی ہے جو آرام آرام سے اور معقول انداز میں کی جائے، نہ کہ نمائشی اور غیر معمولی سینہ زنی جس میں دوسرے غلط کام بھی شامل ہوتے ہیں اور جس کے دوران لوگ اپنے جسم کی نمائش کرتے ہیں، اس قسم کی سینہ زنی اپنا اصل مفہوم کھو بیٹھتی ہے اور صرف ایک نمائشی فن بن کے رہ جاتی ہے۔

   سخت قسم کی سینہ زنی کے حرام قرار دیئے جانے کے متعلق عرض ہے کہ ہم بھی بعض دیگر فقہاء کی مانند بدن کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کو حرام سمجھتے ہیں، چاہے وہ نقصان بدن کے لئے کسی بڑے خطرے کا باعث نہ بھی بنے۔ سینہ زنی بھی اگر اس حد تک شدید ہوجائے کہ جسم کو نقصان پہنچے، چاہے یہ نقصان ایک دو روز میں ٹھیک ہو جائے، تب بھی ہماری نظر میں یہ عمل حرام ہے اور بالکل ایسے ہی ہے جیسے انسان سخت سردی میں اپنے آپ کو سرد ہوا میں لے جائے، جو اسکی بیماری کا سبب بنے، یا کوئی ایسی غذا کھا لے جو بخار یا اسہال کا باعث ہو، ہم اس قسم کے کاموں کو حرام سمجھتے ہیں کیونکہ خود اپنے آپ کو ضر پہنچانا حرام ہے، علاوہ ازایں یہ اپنے اوپر ظلم کے مترادف ہے۔

   قرآن مجید میں فرمان الہی ہے کہ : "اور اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہے، بلکہ یہ خود ہی اپنے نفس پر ظلم کرتے رہے ہیں" (سورہ نحل // آیت 33)

   اس آیت سے ظاھر ہوتا ہے کہ انسان کا خود اپنے اوپر ظلم کرنا خدائے سبحان کی نظر میں مذموم اور ناپسندیدہ عمل ہے۔ چاہے یہ ظلم خدا کے انکار کی صورت میں ہو، جو آتش جہنم میں ڈالے جانے کا باعث ہے، چاہے دوسرے امور میں ہو، علاوہ ازیں اپنے آپ کو تقصان پہنچانا جیسا کہ شیخ مرتضیٰ انصاریؒ نے بھی فرمایا ہے "عقلی اور عقلائی قبح کا حامل ہے۔"

   لہٰذا ہماری نظر میں سخت سینہ کوبی، جس سے انسان کو نقصان پہنچے، خود اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کے حرام ہونے کے اعتبار سے حرام ہے، قطع نظر اسکے کہ اس قسم کا عمل عاشورا کے مراسم میں انجام دیا جاتا ہو۔ ہم عزاداری کے مراسم کی ان کے تمام حزن انگیز پروگراموں کے ساتھ انعقاد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ اور مطابق ہوں۔

۔۔۔۔

 

 

اھل کتاب کی طہارت

 

سوال : اھل کتاب کی طہارت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟

جواب: ہماری رائے ہے کہ تمام انسان پاک ہیں ، چاہے وہ مسلمان ہوں چاہے کافر، کیونکہ کوئی انسان بھی انسان ذاتا نجس نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ کسی کا عقیدہ نجس ہو، اسکے افکار و احساسات نجس ہوں، لیکن شریعت کے گہرے مطالعے اور تحقیق کی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ کسی بھی انسان کی ذاتی نجساست کے بارے میں کوئی دلیل نہیں پائی جاتی، لہذا مومن بھی اور کافر بھی نجاست سے آلودہ ہونے کی وجہ سے نجس ہوتے ہیں۔

   شہید آیت اللہ باقر الصدرؒ کی رائے بھی یہی تھی کہ تمام انسان پاک ہیں۔ البتہ غیر اھل کتاب کافر کے بارے میں پائے جانے والے اجماع کے شبہ کی وجہ سے اس کے بارے میں آپ احتیاط کے قائل تھے۔


سوال : اس نجاست سے کیا مراد ہے ؟ جس کی جانب قرآن نے اشارہ کیا ہے ؟
جواب: قرآن کریم میں نجاست سے مراد، شرک کی نجاست ہے، شرک کی ناپاکی فکری گندگی ہے۔ ہمارے اس دعوے کی دلیل وہ استدلال ہے جو خود آیت میں کہا گیا ہے : ارشاد الہی ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ
(سورہ توبہ/آیت 28)

   اگر یہاں نجسات سے مراد یہ ہوتی کہ مشرکین ذاتاً نجس ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ اگر نجاست گیلی نہ ہو تو کوئی نجاست منتقل نہیں ہوتی، لہذا ان کی نجاست اس صورت میں منتقل ہوتی جب وہ گیلے خانہ خدا میں داخل ہوتے، وہ فقہاء بھی جو کہتے ہیں کہ کفار ناپاک ہیں، کفار کی نجاست کے ثبوت میں (سورہ توبہ آیت 29) سے استدلال نہیں کرتے کیونکہ اس آیت میں نجاست سے مراد معنوی نجاست ہے۔ 

۔۔۔۔

 

تحقیق احادیث کے حوالے سے فتویٰ


سوال : کیا ضروری ہے کہ ہر خطیب ہر اس حدیث کو نقل نہ کرے جب تک اُسے اس کی صحت پر یقین نہ ہو ، آیا ممکن ہے کہ اس مفہوم میں آپ کوئی فتویٰ صادر فرمائیں ؟

جواب: علماء نے اس سلسلے میں فتویٰ دیا ہے کہ جائز نہیں ہے کہ ہر حدیث آپ نبی یا امام کی طرف نسبت دے دیں جبکہ اس کا مصدر قابل اعتماد و موثق نہ ہو، اگر کوئی راوی کوئی بات کرے تو خطیب کو چاہیئے کہ یہ مضمون جو اس نے نقل کیا ہے، دیکھے صحیح ہے یا نہیں، شریعت و عقیدے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے یا نہیں، بعض خطباء کہتے ہیں کہ فلاں راوی کی طرف نسبت دینے سے وہ اس ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں، وہ مسئولیت سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "گناہ بر گردن راوی" ، یہ ایک غلط تصور ہے۔ لہذا خطیب کو چاہیئے کہ جب وہ لوگوں کے سامنے کوئی حدیث نقل پیش کرے تو اس حدیث سے پرہیز کرے جس کا مضمون عقیدہ اسلامی کو مخدوش کرتا ہو، اسی طرح تصور اسلامی و ثقافت اسلامی پر داغ لگاتا ہو۔ 

۔۔۔۔

 


پہلی مجلس عزا


سوال : پہلی مجلس عزا امام حسینؑ کب شروع ہوئی اور سینہ مارنے و جلوس نکالنے کا سلسلہ کب شروع ہوا ؟

جواب: قرائن و شواھد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئمہ طاھرینؑ ہی سب سے پہلے اس مجلس عزا کا باب کھولنے والے ہیں اور لوگوں کو اس کے ذکر کو تسلسل دینے کے لئے متوجہ کرنے والے ہیں لیکن سینہ مارنے کی کوئی واضح و دقیق تاریخ نہیں جس کی ہم صحیح معنوں میں نشاندہی کریں۔

۔۔۔۔

 

 

سوال : بعض الناس کہتے ہیں کہ اگر فدک جناب السیدہ زھراءؑ کا حق تھا تو جب مولا علیؑ خلیفہ بنے تھے تو آپؑ نے فدک کو اس کے حقیقی وارث یعنی اھل بیتؑ کے پاس کیوں نہ پلٹا دیا جبکہ آپؑ ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ؟

جواب: مسئلہ فدک امام علیؑ اور اھل بیتؑ کے لئے ایک مالی مسئلہ نہیں تھا، یہ کیسے ہو سکتا اور جبکہ علیؑ وہ شخصیت ہیں جو کہتے ہیں کہ "بھلا میں فدک یا فدک کے علاوہ کسی اور چیز کو لے کر کیا کروں گا جبکہ نفس کی منزل کل قبر قرار پانے والی ہے"(نہج البلاغہ // مکتوب : 45) اس کے بجائے فدک ان کی نظر میں ایک غضبی خلافت کا نشان بن چکا تھا۔ جب امام علیؑ خلیفہ بنے تو انھوں نے مصلحت کے تحت اس میں اپنا کوئی ذاتی فائدہ نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ یہ چاہتے تھے کہ ان پر الزام لگے کہ یہ وہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے خلافت کے اختیارات کو استعمال کرتے تھے، مزید یہ کہ ممکن ہے کہ اگر وہ فدک حقیقی وارثوں کو واپس کر دیتے تو مزید مسائل پیدا ہو جاتے جس طرح اس وقت ہوئے جب آپؑ نے تراویح کی نماز جس کو عمر بن خطاب نے متعارف کرایا تھا تو لوگوں نے آپؑ کی مخالفت کی اور چلانے لگے کہ ہائے عمر کی سنت کو بدلا جا رہا ہے۔

۔۔۔۔

 

 

حکم صیام شوال


سوال: کیا اھل بیتؑ کے طریق سے ایسی احادیث وارد ہوئی ہیں جس میں عید کے بعد شوال کے چھ روزوں کے رکھنے کا حکم ہو ?

جواب: عیدالفطر کے فوراً تین دن بعد روزہ رکھنے کی کراہیت وارد ہوئی ہے، امام صادق (ع) سے روایت ہے کہ "عید قربان کے بعد تین دن تک روزہ نہیں ہے اور نہ ہی عیدالفطر کے بعد تین دن تک روزہ ہے کیونکہ یہ کھانے پینے کے دن ہیں"

(وسائل الشیعہ// ج 7//ص 214)

   اسی طرح ایک اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ "جب ماہ رمضان کے روزے افطار کرو (ختم ہوجائیں) تو جب تک عید الفطر کے بعد تین دن نہ گزر جائیں تب تک ہرگز کوئی مستحبی روزہ نہ رکھو۔" (وسائل الشیعہ// ج 7//ص 215)

  ہاں زہری والی حدیث میں جو اس نے امام زین العابدین (ع) سے روایت کی ہے کہ اگر کوئی آدمی روزہ رکھنا چاہے تو اس کو اختیار ہے کہ وہ ان ایام میں روزہ رکھے : یوم جمعہ ، جمعرات ، سوموار ، اور ایام بیض (اسلامی مہینہ کی 13،14،15)، اور شوال کے چھ روزے بعد ماہ رمضان اور صوم عرفہ اور صوم عاشورہ، ان ایام میں آدمی کو اختیار ہے کہ وہ روزہ رکھے یا نہ رکھے (مقنع // صدوق// ص 201)

   پس (زہری والی حدیث) میں یہ احتمال ہے کہ اس میں جو اختیار دیا گیا ہے کہ ماہ رمضان کے بعد شوال میں چھ روزے ہیں، وہ عیدالفطر کے تین دنوں بعد ہو، (یعنی شوال کے تین دن گزر جانے کے بعد یہ روزے رکھے)۔

احکام الصوم // آیت اللہ العظمیٰٰ فضل اللہ (ر) // ص 89// طبع بیروت

۔۔۔۔

 

سوال: میں آپ کے اھل سنت بھائیوں میں سے ہوں اور حنفی مذہب کا پیروکار ہوں اور آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ کہ جب امام علیؑ خلافت کے لئے دوسروں سے بہتر تھے تو کیوں حق حاصل کرنے کے لئے آپؑ نے قیام نہ کیا ؟ کیا آپؑ کا سکوت آپؑ کی مخالفت تھی ؟ 

جواب: امام علیؑ فرماتے ہیں: "جب تک مسلمانوں کے امور درست رہیں اور سوائے میرے کسی اور پر ظلم نہ ہو تو میں مسالمت آمیز رویہ رکھوں گا۔"

(خطبہ نہج البلاغہ : 74)

   امامؑ اس زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان وحدت کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے چونکہ اس زمانہ میں‌ ممکن تھا کہ امام علیؑ کا کوئی بھی اس طرح کا اقدام مسلمانوں کی پراکندگی اور انتشار کا باعث ہوتا بلکہ ممکن تھا پورے عالم اسلام کی نابودی کا باعث ہوتا ۔

امام علی ع فرماتے ہیں : 

"مجھے کسی چیز نے رنجیدہ نہ کیا مگر سوائے لوگوں کے فلاں کی طرف یعنی ابوبکی کی طرف جانے سے اور انکی بیعت کرنے نے، میں نے بھی بیعت سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، لیکن دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ اسلام سے پلٹ جائیگا اور دین محمدؐ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا چاہتا ہے تو میں ڈرا کہ اگر میں اسلام اور مسلمانوں کی مدد نہ کروں تو دین میں رخنہ یا ویرانی دیکھنی پڑے گی جو تم پر حکومت کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے سے کہیں زیادہ درد ناک تھا اور وہ ایسی حکومت جو چند روزہ تھی اور سراب کی طرح زائل ہوجاتی، ان بادلوں کی طرح تھی جو یکجا ہونے سے پہلے ہی پرکندہ ہوجاتے تھے، بہرحال میں اٹھ کھڑا ہوا یہاں تک کہ باطل نابود ہوگیا اور دین کو اطمینان و سکون ملا اور پائیدار ہوگیا۔"

 (نہج البلاغہ // مکتوب 62)

حضرت علی ع کی خاموشی اسلام و مسلمین کی بقا کے لئے تھی ۔

۔۔۔۔

 

 

سوال : کیا ایسے شخص کی رائے پر عمل کرنا جائز ہوگا جو فقہ کے کسی ایک باب مثلًا اقتصاد کا ماہر ہ ، اگرچہ یہ ماہر عام لوگوں کی نظر میں ایک عالم دین شمار نہ کیا جاتا ہو ؟

جواب: کسی میدان میں ماہر کوئی شخص رسمی طور پر عالم دین یا مرجع شمار کیا جاتا ہے یا نہیں، اس مسئلے کا رسمی پہلو اہمیت کا حامل نہیں، بلکہ اہم ترین بات اس کا اس رسمی علم کا حامل ہونا ہے جس کے تحت ہو اجتہاد کے درجے پر فائز ہو اور اہل خبرہ میں شمار کیا جاتا ہو یعنی لوگوں میں سے ہو جو اپنی رائے پر عمل کرسکتے ہیں اور دوسرے بھی ان کی رائے کی جانب رجوع کر سکتے ہیں۔

   اگر انسان مطالعے، بحث و گفتگو اور تحقیق کے ذریعے اجتہاد کے مرحلے پر پہنچ جائے تو اسکے لئے کوئی حرج نہیں بلکہ اس پر واجب ہے کہ اپنی فقہی رائے پر عمل کرے، اور اگر دوسرے لوگ بھی اس میں ایک مرجع کی صفات پائیں تو جن مسائل میں تقلید کی جاتی ہے، ان میں اسکی تقلید کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔


سوال : کیا مجتھد ہونے کے لئے مرد ہونا شرط ہے ?

جواب: اگر مسئلہ تقلید کا تعلق اس بات سے ہے کہ جاہل عالم کی پیروی کرے، تو عالم مرد اور عالم عورت میں کوئی فرق نہیں، البتہ مرد کا عورت کی تقلید نہ کرنا ایک حد تک مسلم سمجھا جاتا ہے لیکن ہماری نظر میں اسکی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے، بلکہ اسکا سبب ماضی کے معاشرتی حالات ہیں جن میں لوگ عورت کو حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور اسے فقہی ذمہ داریاں اٹھانے کے سلسلے میں ناتواں سمجھتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی عامل عالم عورت کی جانب مرد کے رجوع نہ کرنے کی اطمینان بخش دلیل نہیں ہے۔

۔۔۔۔

 

داڑھی صاف کرنا


سوال : کیا داڑھی صاف کرنا، واضح طور پر حرام ہے ؟ 

جواب: ہمارے نزدیک تو اسکا حرام نہ ہونا ثابت ہے کیونکہ داڑھی مونڈنا بعض علماء کے نزدیک اس حدیث کے بنا پر حرام ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ :

’’مونچھوں کو تراشوں اور ڈاڑھی کو چھوڑ دو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو۔‘‘

   لہذا اگر اس حکم کی بنیاد یہودیوں سے عدم مشابہت کا اصول ہو تو یہ حکم اس زمانے سے مخصوص سمجھا جائے گا جب مسلمان اقلیت میں ہوں اور دوسروں کی اکثریت ہو اور اس صورتحال کا تقاضا ہو کہ مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان امتیاز بر قرار رکھا جائے، اس بارے میں حضرت علی (ع) کی ایک روایت موجود ہے کہ جب آپؑ سے رسول اللہ (ص) کی اس حدیث: ’’اپنے بالوں کو خضاب کرو اور یہودیوں کی مانند نہ ہوجاو۔‘‘ کہ بارے میں سوال کیا گیا تو امام علی (ع) نے اس کی وضاحت میں فرمایا: ’’رسول اکرم (ص) نے یہ حکم اس زمانے میں دیا تھا جب مسلمانوں کی تعداد قلیل تھی لیکن آج مسلمانوں کی تعداد بڑھ چکی ہے اور دین کی بنیادیں مضبوط ہو چکی ہیں لہذٰا اب اس سلسلے میں لوگوں کو اختیار ہے۔‘‘

(نہج البلاغہ // رضی // کلمات قصار: 16)

   اس بارے میں موجود احادیث سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی دعوت کے ابتدائی ایام کے تقاضوں کے پیش نظر ڈاڑھی مونڈنا حرام قرار دیا گیا تھا لیکن اس کے بعد داڑھی مونڈنا بدنامی کا سبب بن گیا اور جب کسی کو سزا دینا یا رسوا کرنا مقصود ہوتا تو اسکی داڑھی مونڈ دیتے تھے، جس طرح آج کے دور میں کبھی کبھی سزا کے طور پر لوگوں کو گنجا کردیا جاتا ہے۔

   بعض فقہاء ڈاڑھی مونڈنے کے حرام ہونے کے بارے میں اھل شرع کی سیرت سے استدلال کرتے ہیں لیکن یہ سیرت مونڈنے کے حرام ہونے پر کسی طرح بھی دلالت نہیں کرتی، کیونکہ ممکن ہے اس سیرت کی بنیاد فقہاء کے فتوے ہوں، یا مسلم معاشروں کا معمول ہو جس میں ڈاڑھی مونڈنے کا رواج نہیں۔

۔۔۔۔

 

موسسہ بینات پاکستان

www.bayenat.net

***