مہدویت

آیت اللہ العظمیٰ سید محمد حسین فضل اللہ ؒ کی نظر میں

سید محمد علی تقوی حوزۂ علمیہ قم

خاتم الاوصیا امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں اجماعِ امت ہے کہ آخر الزمان میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خاندان سے ان کی چہیتی بیٹی صدیقہ کبریٰ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کی اولاد سے ایک عالمی مصلح مہدی علیہ السلام کے نام سے خروج کریں گے اور وہ دنیا سے ظلم و ستم کے خاتمے اور اس میں عدل و انصاف کے رواج کے لیے قیام کریں گے اور انہیں اس میں کامیابی حاصل ہوگی۔

اس بارے میں علمائے اسلام کی کثیر تعداد نے قلم اُٹھایا ہے اور اس مسئلے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔ شیعہ علمامیں شیخ صدوق ؒ نے ’’کمال الدین و تمام النعمۃ‘‘ شیخ الطائفہ طوسی ؒ اور نعمانی نے ’’الغیبۃ‘‘ نامی کتاب لکھی جن میں رسول خدا ؐ اور ان کے اوصیا ؑ سے احادیث کو مختلف ابواب میں جمع کیا گیا۔

بعض علما کا کہنا ہے کہ جو روایات شیعہ سنی نے امام مہدی ؑ کے بارے میں جمع کی ہیں ان کی تعداد چھ ہزار ہے۔

اگر ابتدائی تحقیق اور اجمالی طور پر جائزہ لیا جائے تو مہدویت کے موضوع پر تین چار طرح کے آثار اور تحریریں سامنے آئی ہیں۔

1)  امام مہدی ؑ کی ولادت‘ امامت‘ غیبت اور ظہور پر روایات کی جمع آوری ۔جیسے شیخ صدوق کی کمال الدین وتمام النعمۃ اور شیخ طوسی کی الغیبۃ اور شیخ نعمانی کی الغیبۃ۔

2)  امام مہدی ؑ کے جود‘ان کی طولِ عمر اور ان کے قیام و انقلاب پر علمی اور فلسفیانہ شبہات و اعتراضات کے جواب اور ان سے مربوط مختلف مسائل پر بحث و تحلیل ۔جیسے شہیدِ رابع سید محمد باقر الصدر ؒ کی معروف کتاب ’’بحث حول المہدی ؑ ‘‘ جو انتظارِ امام کے نام سے اردو میں چھپی ہے اور شہیدِ خامس سید محمد صدر ؒ کی مایہ ناز تحقیق ’’موسوعہ الامام المہدی ؑ ‘‘ شہیدِ اسلام آیت اللہ مرتضیٰ مطہری ؒ کی تقاریر جو فارسی میں ’’قیام وانقلابِ مہدی ؑ ‘‘ کے نام سے اور اردو زبان میں ’’آخری فتح‘‘ کے نام سے شائع ہوئیں‘ اِسی طرح مرحوم آیت اللہ العظمیٰ منتظری‘ آیت اللہ ابراہیم امینی‘ آیت اللہ مکارم شیرازی اور استاد محمد رضا حکیمی نے اِس طرز پر بحث کی ہے۔

3)  عقیدۂ مہدویت اور ان کی غیبت میں ان کا انتظار کرنے والوں کے فرائض پر مرجع دینی آیت اللہ العظمیٰ سید محمد حسین فضل اللہ (قدس سرہ) کی گرانقدر تالیف ’’العدل المنتظر‘‘ جسے بارہ ہزار صفحات اور ۲۰ جلدوں پر مشتمل ان کے دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) ’’الندوۃ‘‘ اور نمازِ جمعہ کے خطبات اور مختلف انٹرویوز اور گفتگوؤں سے اخذ اور تلخیص کیا گیا ہے۔ اور یہ کتاب ’’مہدی منتظر ؑ ‘‘ کے نام سے اردو میں شائع ہوچکی ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ سید محمد حسین فضل اللہ علیہ الرحمۃ کا امتیاز اور انفرادیت ان کی شخصیت کا جامع ہونا ہے ‘جو اسلام کے جامع فہم سے نشات لیتی ہے۔ اِسی لیے ہم نے مہدویت پر ان کی نظر کو اہمیت دی‘ البتہ اس پر بہت ہی اختصار سے گفتگو کا ارادہ کیا ہے۔

ظہورِ مہدی ؑ کے بارے میں اجماع

علمائے اسلام کی اکثریت کی طرح سید علیہ الرحمۃ معتقد ہیں کہ ظہورِ مہدی ؑ پر علمائے امت کا اجماع ہے۔ وہ اس بارے میں فرماتے ہیں:’’مہدویت ایک ایسا دینی مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں مخصوص سیاسی حالات کے زیر اثر بعض مسلمانوں کی طرف سے اس مسئلے سے انکار کی کوشش کی گئی ہے‘ لیکن اس کے بارے میں تمام مسلمانوں کے پاس متواتر احادیث موجود ہیں۔ (۲) ممکن ہے اس کی بعض جزئیات کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہو‘ مثلاً یہ کہ امام مہدی ؑ کی ولادت ہوچکی ہے یا نہیں؟شیعہ امامیہ کے درمیان ان کی ولادت کے بارے میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے جبکہ اکثر برادرانِ اہلِ سنت یہ عقیدہ نہیں رکھتے۔ مرحوم سید محسن امین کے بقول کچھ علمائے اہلِ سنت امام مہدی ؑ کی ولادت کو مانتے ہیں اور اُن کے اور اُن کے والدِ گرامی کے ناموں کے بارے میں شیعوں سے اتفاق کرتے ہیں۔ (مہدئ منتظر ؑ ۔ صفحہ ۸)

مہدویت پر حدیثِ ثقلین سے استدلال

امام مہدی ؑ کے بارے میں سید علیہ الرحمۃ جہاں اجماعِ امت کا ذکر کرتے ہیں وہاں حدیثِ ثقلین سے بھی استناد کرتے ہیں۔

حدیثِ ثقلین شیعہ سنی دونوں کے یہاں متواتر احادیث میں سے ہے۔ جس میں رسولِ خدا ؐ فرماتے ہیں :

’’انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی اھل بیتی مااِن تمسکتم بہمالن تضلوا بعدی (ابداً) وانہمالن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض۔۔۔۔ ‘‘

اِس حدیث شریف کو نقل کرنے کے بعد سید علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :’’اس حدیث شریف سے بہت سے علما نے یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ جب تک کتاب موجود ہے (اور کتاب ہر دور میں موجود ہے) لازماً خاندانِ پیغمبر ؐ سے تعلق رکھنے والا ایک امام بھی موجود رہے گا‘ کیونکہ رسولِ خدا ؐ نے اس حدیث میں (قرآن اور عترت) کے اٹوٹ بندھن کی نشاندھی کی ہے۔ ‘‘ 

مہدئ منتظر ؑ ۔ صفحہ ۱۲

زمانۂ غیبت میں منتظرین کا کردار

فقہائے امامیہ کے درمیان جس مسئلے پر ہمیشہ بحث و گفتگو ہوتی ہے وہ زمانۂ غیبت میں امام مہدی ؑ کے منتظروں کا کردار ہے۔ بعض انفرادی اصلاح کو کافی سمجھتے ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ اجتماعی امور کی اصلاح کے لیے ہمیں امامِ منتظر ؑ کا منتظر رہنا چاہیے۔ بعض فقہا اسلامی احکام کے اجرا و نفاذکے لیے جدوجہد کے قائل ہیں۔ جبکہ بعض ایسی احادیث کا سہارا لیتے ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ قیام و انقلابِ مہدی ؑ سے پہلے اٹھنا جائز نہیں اور جو پرچم بھی ان کے ظہور سے قبل اُٹھے گا وہ گمراہی کا پرچم ہوگا۔
اس مسئلے کا علمی و فقہی جائزہ جس کتاب میں تفصیل کے ساتھ لیا گیا ہے وہ آیت اللہ منتظری ؒ کی شہرۂ آفاق کتاب ’’دراسات فی ولایۃ الفقیہ‘‘ ہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ یہ سولہ سترہ روایات مدعا پر دلالت نہیں کرتیں کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ دلالت کے اعتبار سے مراد امام مہدی ؑ کے نام سے بلند اور اُٹھنے والے پرچم ہیں۔

اس مسئلے کا سید علیہ الرحمۃ نے اس طرح جائزہ لیا ہے:’’امامِ حجت ؑ پر ایمان رکھنے والے بعض افراد کی مشکل یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ زمانۂ غیبت میں دینی سرگرمیوں اور اسلام کے لیے جدوجہد سے منع کیا گیا ہے‘ حتیٰ ان میں سے بعض لوگ اصلاحی عمل کو ناجائز سمجھتے ہیں‘ وعظ ونصیحت کو حرام قرار دیتے ہیں‘ کیونکہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ لوگوں کو جتنی زیادہ نصیحت کی جائے گی وہ ان کے انسان بننے کا سبب بنے گی اور ان کا انسان بننا حضرتِ حجت ؑ کے ظہور میں مزید تاخیر کا باعث بنے گا اور اگر ہم نے اسلام کے لیے جدوجہد کی اور مختلف جگہوں پر اسلامی حکومتوں کے قیام میں کامیاب ہوگئے‘ تو ایسا کرکے ہم حضرت مہدی ؑ کے خلاف ایک تخریبی عمل کے مرتکب ہوں گے۔

یہ لوگ اسلام کو متوقف کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اسلامی احکام کسی بھی زمانے میں توقف پذیر نہیں۔ ’’حلالِ محمد ؐ حلال الی یوم القیامۃ وحرام محمد ؐ حرام الی یوم القیامۃ۔‘‘ (حلالِ محمد ؐ روزِ قیامت تک حلال ہے اور حرامِ محمد ؐ روزِ قیامت تک حرام) لہٰذا جہاد متوقف نہیں ہوسکتا‘ امر بالمعروف ونہی عن المنکر متوقف نہیں ہوسکتا اور دوسرے الٰہی احکام بھی متوقف (ومعطل) نہیں ہیں۔

رہی وہ روایات جو یہ کہتی ہیں کہ زمانۂ غیبت یعنی حضرت حجت ؑ کے ظہور سے قبل جو بھی پرچم بلند ہوگا وہ گمراہی کا پرچم ہوگا‘ تو اس حوالے سے عرض ہے کہ اس طرح کی روایات کے بارے میں بہت سے تحفظات ہیں۔

جو انسان اسلام اور مسلکِ اہلِ بیت ؑ کی طرف دعوت دے اور امام خمینی ؒ کی مانند پوری دنیا کے مقابل کھڑا ہوجائے ‘تو کیا اس کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا پرچم گمراہی کا پرچم ہے؟

لہٰذا ایسی روایات پر غور و فکر کی ضرورت ہے ‘کیونکہ ممکن ہے یہ روایات جعلی ہوں یا یہ کہ ان سے کچھ اور مراد ہو‘ اس لیے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ایک خاص زمانے میں اہلِ حق کے پاس انقلاب اور تحریک کی قوت نہ ہو۔

کیا خداوند عالم اپنے بندوں سے یہ تقاضا کرسکتا ہے کہ وہ اسلام کے نفاذ کا مطالبہ نہ کریں‘ لوگوں کی اصلاح نہ کریں؟

کیا یہ بات معقول نظر آتی ہے؟

خداوندِ عالم نے ہمیں عقل دی ہے‘ ہمیں قرآنِ کریم عنایت فرمایا ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ صحیح سنتِ نبوی ؐاور میراثِ اہلِ بیت ؑ کی پیروی کریں۔ لہٰذا یہ بات درست نہیں کہ ہم صرف اس قسم کی کچھ روایات کی وجہ سے تمام چیزوں کو روک دیں۔

کیا ہم ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے (یہاں سید علیہ الرحمہ کی مراد نقلی و عقلی دلائل ہیں) اسلام اور اپنی تحریک کو متوقف کردیں اور انقلاب اور تبدیلی کے سلسلے میں اپنے تمام ارمانوں‘ آرزوؤں‘ مقاصد اور پروگراموں سے اس امید پر دست بردار ہوجائیں کہ ایک دن امام ؑ آکر اس پوری دنیا کو بدل ڈالیں گے؟‘‘ (مہدئ منتظر ؑ ۔ صفحہ ۴۰؍ ۴۱)

پھر سید علیہ الرحمۃ قرآنِ کریم (کہ جس کی مرجعیت کے وہ زبردست حامی تھے) سے راہنمائی لیتے ہوئے یوں فرماتے ہیں :

’’قرآنِ کریم اس قسم کے عقیدے کو قبول نہیں کرتا ‘کیونکہ خداوندِ عالم نے اپنی جانب دعوت کو کسی خاص زمانے سے وابستہ نہیں کیا ہے۔ امربالمعروف و نہی عن المنکر کو کسی خاص زمانے میں منحصر قرار نہیں دیا ہے اور جہاد کے لیے کسی خاص دور کا تعین نہیں کیا ہے۔ لہٰذا تمام لوگ اسلام کے بارے میں ذمے دار ہیں۔ اسلام کے لیے جدوجہد ایک امانت کی طرح ان کے کاندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ وہ اسلام جو خدا اور اس کے رسول ؐ کی امانت ہے۔

افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقا بکم ۔   سورہ آلِ عمران۳۔آیت ۱۴۴

’’اگر وہ (رسول) وفات پاجائیں یا قتل کردیے جائیں تو کیا تم اُلٹے پیروں پلٹ جاؤگے۔ ‘‘

لہٰذا ہمیں چاہیے کہ نسلاً بعد نسل اس راہ کو جاری رکھیں اور اس کی پیروی کریں۔

ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیرویامرون بالمعروف وینہون عن المنکر واولئک ھم المفلحون۔   (سورۂ آلِ عمران۳۔آیت ۱۰۴)

’’اور تمہارے درمیان ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو خیر کی دعوت دے اور نیکیوں کا حکم دے اور برائیوں سے منع کرے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ‘‘

لہٰذا امام مہدی ؑ اپنے زمانے میں اپنا کردار ادا کریں گے اور اگر ہماری زندگی ہی میں وہ زمانہ آپہنچا تو ہمیں ان کے گردا گرد ہونا چاہیے تاکہ ہمارا شمار ان کے ساتھیوں اور ان کے لشکر میں ہو ‘لیکن اپنے زمانۂ ظہور میں امام مہدی ؑ کا کردار آج ہمارے فریضے کو ختم نہیں کردیتا بلکہ ہمیں چاہیے کہ اس خدائی وعدے کو یاد رکھیں اور عالمگیر عدالتِ اسلامی کے نفاذ کی کوشش کریں اور اس الٰہی وعدے سے وہ حقیقی فکر حاصل کریں جس کے تحت اسلام اور عدل و انصاف کے لیے جدوجہد ہماری ذمے داری ہے۔‘‘ (مہدئ منتظر ؑ ۔ صفحہ ۴۱؍۴۲)

زمانۂ غیبت میں ہمارا کردار

آیت اللہ العظمیٰ فضل اللہ علیہ الرحمۃ صرف مرجع نہ تھے ‘بلکہ ایک داعئ دین بھی تھے۔ لہٰذا امت کی موجودہ صورتحال سے نالاں ہی نہیں رہتے تھے بلکہ اس کی اصلاح کے لیے لائحۂ عمل بھی دیتے تھے اور امید بھی دلاتے تھے۔

آپ فرماتے ہیں :

’’عصرِ حاضر میں ہمارا کردار ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم میدانِ عمل میں موجود رہیں تاکہ انسانی عوامل‘ چیلنجز‘ مشکلات اور رکاوٹوں کا جائزہ لیں اور اس مرحلے کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کرتے ہوئے مقابلے کے میدان میں قدم رکھیں اور اسلام کی حقیقی قدر و قیمت سے آگہی کے ساتھ اس کے لیے حتی الامکان جدوجہد کریں۔

ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ خدا نے یہ دین اور یہ پیغام فقط زمانۂ پیغمبر ؐ میں اجرا ونفاذکے لیے نہیں بھیجا تھا کیونکہ تمام انبیا نے دعوت کا کام کیا اور تمام تر کوششیں کرنے اور صعوبتیں جھیلنے کے بعد اپنے زمانے کے کچھ لوگوں کو دائرۂ ایمان میں داخل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بعد ازاں اُن کی دعوت کو وسعت ملی اور ایک خاص گروہ نے اسے قبول کیا لیکن اپنی بھرپور جدوجہد کے باوجود وہ کفر و انحراف اور استکبار کا مکمل خاتمہ نہ کرسکے ‘بلکہ خداوندِ عالم نے مختلف رسول بھیجے تاکہ اُن کا پیغام ایک روشن علامت کے طور پر ہمیشہ انسانوں کے سامنے رہے اور ہر دور کا انسان اسے اپنے لیے نصب العین قرار دے۔

خداوندِ عالم چاہتا ہے کہ انسان ایک ایسے مرحلے پر پہنچے جس میں پورے کے پورے اسلام (جو تمام رسالتوں کا مجموعہ ہے) کا نفاذ ہو اور یہ مرحلہ وہی عصرِ ظہور ہے جس کے ہم منتظر ہیں۔ یہ وہ قسمت ہے جو خدا نے انسان کے لیے لکھ دی ہے اور جب تک رسالت کا مکمل طور پر اجرا نہ ہوجائے یہ دنیا ختم نہیں ہوگی۔

اللہ رب العزت ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم یہ نہ سمجھیں کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو حقائق سے کوئی تعلق نہیں رکھتا‘ انسان کو زندگی سے دور لے جاتا ہے ‘یا ایک ایسا عظیم الشان تصور ہے جسے ہم صرف خواب ہی میں جامۂ عمل پہنتا دیکھ سکتے ہیں یا ایک ایسی بلند چوٹی ہے جسے آسمانوں کی بلندیوں پر پہنچ کر ہی دیکھا جاسکتا ہے اور اس تک رسائی ممکن نہیں ہے‘ بلکہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اس بات سے باخبر ہوں کہ اسلام اپنے احکام میں بھی اور انسانی مشکلات کے حل کے لیے اپنے لائحۂ عمل میں بھی حقیقت پر مبنی ہے اور اسلام کی یہ صلاحیت برسرِ زمین اس وقت تک ظاہر نہیں ہوگی جب تک اس کے لیے منطقی حالات فراہم نہ ہوجائیں۔

ہمیں اسلام کے راستے پر چلتے ہوئے مختلف جگہوں پر یہ منطقی حالات فراہم کرنے چاہئیں‘ تاکہ لوگ اسلام کے سائے میں زندگی بسر کریں۔

ہمیں ایسے کام کرنے چاہئیں کہ اسلام کو تمام نسلوں کی عقل اور قلب میں جگہ دلائیں ‘کیونکہ اسلام کا فہم ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔

ہمیں چاہیے کہ اس وقت‘ عصرِ ظہور کے معاشرے میں اسلام کے جامع استفادے کو ذہن میں رکھیں ‘یعنی ہم میں سے ہر ایک کو پورے معاشرے پر اسلام کے جامع نفاذکے لیے کوششیں بروئے کار لانی چاہئیں تاکہ اس قطعی اور ہمہ گیر نتیجے سے ہمارا تعلق ایک منطقی تعلق ہو۔ بالکل اُن ندیوں کی مانند جو مختلف اطراف سے گر کر ایک ایسا بڑا دریا وجود میں لاتی ہیں ‘جسے نہ تو برسات کا پانی بھر سکتا ہے اور نہ ہی چھوٹی چھوٹی ندیاں اسے پُر کرنے پر قادر ہوتی ہیں۔

لہٰذا ہمارا مستقبل سے لاتعلق رہنا اور جن مشکلات اور کٹھن حالات کا ہمیں سامنا ہے اُن سے متاثر ہوکر جمود اور ٹھہراؤ کا شکار ہوجانا مناسب نہیں ‘بلکہ ہمیں چاہیے کہ درست اجتہادی خطوط پر افکار کی نشوونما کریں۔ ایک ترقی یافتہ اسلامی تجربے کی بنیاد پر ایک نئی تحریک ایجاد کریں اور ایک نئے انداز سے حقائق کا ادراک حاصل کریں ‘کیونکہ جو انسان حقائق کے درست ادراک سے عاجز رہتا ہے وہ راہِ راست پر سفر جاری نہیں رکھ پاتا اور شاید بہت سے نظریہ پر دازوں اور مجتہدین کی مشکل یہی ہے کہ وہ حقائق کا سامنا کرنے سے پہلے کتابوں اور نظری مسائل میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔کیونکہ یہ کتب اُن ادوار میں زندگی بسر کرنے والے افراد کے تجربات کا ماحصل ہیں جن میں یہ تحریر کی گئیں‘ پس ہم کیوں کتابِ حقائق کا مطالعہ نہ کریں تاکہ اس کے ذریعے تازہ تجربات کی بنیاد پر مستقبل کے لیے ایک نئی کتاب کی تدوین کریں؟‘‘  (مہدئ منتظر ؑ ۔ صفحہ ۴۴؍ ۴۶)

انتظارِ امام ؑ کے تقاضے

انتظارِ امام کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے سیّد علیہ الرحمہ یوں فرماتے ہیں :

’’جب ہم امام مہدی ؑ کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اُن کے انتظار کے معنی منفی انتظار نہیں ہیں۔ اُن لوگوں کے انتظار کی مانند نہیں ہے جو کسی کے انتظار میں اضطرابی حالت میں کبھی اُٹھتے اور کبھی بیٹھتے ہیں۔ بلکہ اسکے معنی مثبت انتظار ہے‘ جس میں انسان اپنے آپ اور اپنے معاشرے سے کہتا ہے کہ امام ؑ اسلام کے احیا کے لیے ظہور فرمائیں گے‘ وہ قوی اور طاقتور صورت میں حق کا احیا کریں گے‘ اور پورے کرۂ ارض پر عدل و انصاف کو عام کریں گے۔

ہم اُن کے انتظار میں ہیں‘ تاکہ پوری دنیا پر اسلام کا بول بالا ہو‘ اور تمام عقول‘ قلوب اور جگہوں پر حق کا راج ہو۔ ہم اُن کے انتظار میں ہیں تاکہ ہر سو عدالت دکھائی دے اور پوری زمین پر عدل و انصاف پھیل جائے۔

لہٰذا اگر ہم اسلام‘ حق اور عدل پر ایمان رکھتے ہیں‘ تو ہمیں چاہیے کہ ان کے لیے راستہ صاف کریں اور اسلام کے لیے ‘حضرتِ حجت ؑ کے لیے اور اُن کے لشکر کے لیے ہر جگہ میدان ہموار کریں۔

لہٰذا اگر ہم امام مہدی ؑ کے منتظر ہیں تو ہمیں جائزہ لینا چاہیے کہ اسلام کی خدمت کے لیے ہمارے اندر کس قدر توانائیاں اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ تاکہ اُن کے ذریعے ہم اپنے گھروں کے اندر اسلام کی خدمت کرسکیں‘ اپنے گھرانوں کو اسلامی گھرانے بنا سکیں۔ اپنے بازاروں میں اسلام کی خدمت کرسکیں‘ اُنہیں اسلامی اور شرعی بازار بنائیں‘ جن میں دھوکا اور فریب نہ ہو‘ ناجائز ذرائع سے لوگوں کے مال نہ کھائے جائیں۔ سیاسی تحریکوں میں اسلام کی خدمت کرسکیں‘ تاکہ ہماری سیاست اسلامی رنگ اختیار کرے اور ہم اسلامی اصولوں اور احکام کی بنیاد پر لائحۂ عمل اختیار کرسکیں اور ہم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ دین علیحدہ چیز ہے اور سیاست علیحدہ چیز۔ یہ تو اُن لوگوں کی منطق ہے جو ہم سے کہتے ہیں کہ دیندار رہو‘ خوب نماز پڑھو‘ خوب روزے رکھو‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن سیاست کی پُر فریب‘ دھوکا ونیرنگ سے بھری وادی سے دور رہو۔

ہمارا ایمان ہے کہ انسان ایک ہی ہے‘ ایک ہی ماہیت کے ساتھ دنیا میں آتا ہے‘ یہاں زندگی بسر کرتا ہے‘ اور ایک ہی ماہیت کے ساتھ یہاں سے اُٹھایا جائے گا۔ ہمارے پاس دو انسان نہیں ہیں۔ ایسا انسان جو اپنی نماز‘ روزے اور حج میں خدا کی عبادت کرتا ہے‘ اور ایسا انسان جو سیاست‘ اقتصاد اور اپنے تعلقات میں شیطان کا بندہ ہے۔

لہٰذا ہماری پوری زندگی‘ تعلقات و روابط اور نظریات و موقف حکمِ خدا کے مطابق ہونے چاہئیں۔ تاکہ ہمارا معاشرہ ایک وسیع و عریض عبادت خانہ بن جائے‘ جس میں زندگی بسر کرنے والے تمام انسان خدا کی عبادت کریں۔ لہٰذا ہماری خرید و فروخت اسلامی احکام کے مطابق ہو‘ اپنے بچوں‘ بیویوں‘ ہمسایوں‘ اعزہ و اقربا اور اپنے اردگرد رہنے والے تمام انسانوں سے ہمارے تعلقات خدا ترسی کی بنیاد پر ہوں۔

اگر ہم امام مہدی ؑ کے منتظر ہیں تو ہمیں چاہیے کہ جن امتیازات اور خصوصیات کے ذریعے اُن کے پیروکاروں‘ ساتھیوں اور اصحاب کو پہچانا جائے گا ہم بھی اُن اوصاف اور خصو صیات کو اپنے اندر پیدا کریں۔ کیونکہ اگر ہم میں یہ خصوصیات موجود نہ ہوئیں تو ہم اس دوسرے راستے پر چلنے والے ہوں گے جو ان کے ساتھیوں اور شیعوں کا راستہ نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کا راستہ ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس مسئلے پر خوب غور وخوض کریں۔پس ہمیں امامِ منتظر ؑ کے طرفداروں میں اور ان کے انتظار میں ہونا چاہیے۔ نہ تو ہمارا انتظار غافلوں والا انتظار ہو‘ نہ راحت طلب لوگوں کا سا انتظار۔ بلکہ ہمارا انتظار فرض شناس اور ایک مشن اور پیغام سے وابستہ افرادکا سا انتظار ہو۔ ‘‘(مہدئ منتظر ؑ ۔ صفحہ ۴۶تا۴۸)

زمانہ غیبت میں دینی مراکز کا کردار

سید علیہ الرحمہ صرف مرجع دینی ہی نہیں بلکہ حقائق کا ادراک رکھنے والے ایک مصلح بھی تھے، لہٰذا زمانہ غیبت میں جہاں عوام کیلئے علماء و مراجع تقلید سے رجوع کرنے کو لازم قرار دیتے تھے وہاں دینی مراکز اور علماء و مراجع کو فعال کردار ادا کرنے کی دعوت بھی دیتے تھے۔ اِس نکتہ کی طرف وہ یوں اشارہ کرتے ہیں

’’ایک سوال باقی رہتا ہے‘ اور وہ یہ کہ زمانۂ غیبت میں ہماری ذمے داری اور فریضہ کیا ہے؟

امام ؑ نے ایک راوی کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ہمارے لیے ایک ایسے راستے کی نشاندہی کی ہے‘ جو ہمیں اختیار کرنا چاہیے۔ آپ نے اپنے چار نوابین کے دور میں اپنے پیروکاروں کو سمجھایا کہ غیبتِ صغریٰ کا دور ختم ہونے کو ہے ( جس کے دوران لوگ ان چار نائبین کے توسط سے بالواسطہ امامِ زمانہ ؑ سے رابطہ کرتے تھے) اور غیبتِ کبریٰ کا آغاز ہونے والا ہے۔ لہٰذا امام ؑ نے سوال کرنے والے شخص کو جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ:واماالحوادث الواقعۃ (نئے پیدا شدہ حالات و حوادث میں)

ایسے حوادث جن کے احکام و قوانین سے ہمیں آشنا ہونا چاہیے۔

فار جعوافیھا الی رواۃ احادیثنا (ایسے لوگوں سے رجوع کرو جو ہماری احادیث جمع کرتے ہیں‘ انہیں نظم و ترتیب دیتے ہیں اور انہیں سمجھتے ہیں)

فانھم حجتی علیکم (یہ تم پر میری حجت ہیں)

تاکہ تم سرگردانی کا شکار نہ ہو۔

وانا حجۃ اللہ (اور میں اُن پر خدا کی حجت ہوں)

اس بنیاد پر زمانۂ غیبت میں ہماری ذمے داری یہ ہے کہ وہ علما جو اسلام کا علم رکھتے ہیں‘ متقی و پرہیزگار ہیں‘ جو خدا اور اسکے رسول سے مخلص ہیں‘ جو ظالم حکام سے تعلق نہیں رکھتے‘ جو کسی ظالم طاقت کے زیر اثر نہیں اور جو سیاسی‘ اجتماعی اور اقتصادی گمراہی کا شکار نہیں‘ ہم اُن سے رجوع کریں۔   ‘‘مہدی منتظر صفحہ ۳۰

یہ حالات‘ جن میں ہم چاروں طرف سے سخت چیلنجز میں گھرے ہوئے ہیں‘ ہمارے وجود کو بڑے بڑے خطرات کا سامنا ہے اور مختلف مشکلات نے ہمارا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ان حالات کے مقابلے کے سلسلے میں مراجع‘ علما اور حوزۂ علمیہ کیا کردار ادا کررہے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں ہم عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے درمیان امامِ زمانہ ؑ ہوتے اور یہ تبلیغاتی‘ تعلیمی‘ سیاسی‘ اجتماعی اور عسکری وسائل ان کے اختیار میں ہوتے‘ تو وہ کیا کرتے؟

کیا میدان سے دوری اختیار کرتے؟

کیا فکری چیلنجز کے مقابلے سے لاتعلق رہتے؟

کیا ان چیلنجز سے مقابلے کی بجائے پسپائی اختیار کرتے؟

یا یہ کہ آپ مقابلہ کرنے‘ جدوجہد کرنے‘ ماحول بنانے‘ مشکلات کے حل اور مختلف مسائل پر قابو پانے کے لیے کام کرتے؟

ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر ہم سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں دنیا سے مقابلے کی سکت نہیں رکھتے‘ تب بھی مراجع‘ علما اور حوزہ ہائے علمیہ کو دنیا کے ساتھ علمی مقابلے کا مناسب موقع حاصل ہے۔ اور اگر ہمیں اپنی سیاسی روش پر یقین ہو‘ تو ہم دنیا کو اس بات پر آمادہ کرسکتے ہیں کہ وہ سیاسی میدان میں ہمارا احترام کرے۔

اگر ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم تمام میدانوں میں کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں‘ توہمیں چاہیے کہ موجودہ ذمے داریوں کو اپنے درمیان تقسیم کرلیں‘ اور تمام اسلامی گروہ اپنی پوزیشن اور صورتحال کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اسلام کو درپیش مسائل کے مقابل اپنی ذمے داریاں ادا کریں۔ اور اگر تمام گروہ خواہ ‘وہ اصطلاحی معنوں میں دینی ہوں اور خواہ حوزۂ علمیہ سے باہر تعلیمی وثقافتی مراکز ہوں‘ وہ اسلام اور مسلمانوں کی مشکلات کے حوالے سے اپنی ذمے داری کا احساس کریں۔ اس طرح ہم عالمِ اسلام میں بڑے بڑے کام کرسکتے ہیں۔

مہدی منتظر صفحہ ۳۵ تا ۳۶

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۔ امام مہدی علیہ السلام (ناشر : مؤسسہ در راہِ حق قم)

۲۔ دیکھئے مفتی نظام الدین شامزئی کی کتاب ’’عقیدۂ ظہورِ مہدی ؑ احادیث کی روشنی میں ‘‘