تقویٰ اور وحدت کا مہینہ

استقبالِ رمضان المبارک کی مناسبت سے 

از:مرجع دینی آیت اللہ سیّد محمد حسین فضل اللہ ۔ قدس سرہ

دوستو! خداوند عالم چاہتا ہے کہ یہ مہینہ تقویٰ کا مہینہ بن جائے اور انسان خدا کی طرف بلند ہو‘ اس کا قرب حاصل کرے‘ خیر‘ حق اور عدالت کا خوگر بنے اور ایمان و اسلام کے ہمراہ‘ پروردگارِ عالم کا خوف لئے اور پیغمبر کی اطاعت کرتے ہوئے اپنے آزاد ارادے کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو۔کیونکہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ارادے کا مالک ہو‘ بلکہ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ اسکا ارادہ خیر‘ ایمان اور عدالت کے ہمراہ ہو۔ اس طرح انسان اپنی زندگی میں اس انداز سے عمل کرے گا کہ اپنے لئے‘ اپنے عزیز و اقربا کے لئے‘ اپنے گھرانے کے لئے‘ اپنے گرد و پیش رہنے والے لوگوں کے لئے اور پوری کائنات کے لئے خیر خواہ ہوسکے۔ 

اس مہینے میں ہمیں چاہئے کہ اپنی بہت سی دشمنیوں اور اختلافات کو ایک طرف رکھ دیں‘ اور ایک مسلمان کے عنوان سے اسلامی اتحاد کی بنیاد پر اکھٹے ہوں۔ کیونکہ تمام مسلمان اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ محمد ؐ اسکے رسول ہیں اور وہ سب روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔

حتیٰ اگر اپنے مسلک‘ فتوے یا حالات کے اعتبار سے ہمارے درمیان اختلاف موجود بھی ہو‘ تب بھی ہماری ذمے داری ہے کہ اس طرح عمل کریں کہ وحدتِ کلمہ کے ساتھ آگے بڑھ سکیں اور اسلام کے لئے باعث تقویت ہوسکیں۔ کیونکہ دنیائے کفر و استکبار اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اس بات کی منصوبہ بندی میں مشغول ہے کہ دین و سیاست‘ اقتصاد و امن و امان اور دوسرے تمام میدانوں میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کا آغاز کرے۔ ہمیں بھی اس جنگ کے لئے تیار رہنا چاہئے‘ تاکہ جس طرح خدا چاہتا ہے ہم اس طرح بہترین امت بن سکیں۔

خدا سے ملاقات کے لئے تیاری

مسلمانوں کو اپنی تعداد کے کم ہونے کی شکایت نہیں۔ ان کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے۔ لیکن ان کے درمیان فرقہ وارانہ اختلاف اور ایک دوسرے کو کافر قرار دینا اس بات کا باعث ہوا ہے کہ عالمی استکبار ان کے درمیان فتنے کی آگ بھڑکائے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے تعلقات توڑ کر اسکا خون بہانا جائز قرار دے رہا ہے۔ خداوند عالم اس عمل سے خوش نہیں ہوتا۔ رسولِ خدا سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’اے لوگو! کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم کافر ہو جاؤ‘ اور ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔‘‘

نیز آپ ہی نے فرمایاہے:

’’ایک مسلمان کا خون‘ مال اور ناموس دوسرے مسلمان کے لئے حرام ہے اور ایک مسلمان کا مال دوسرے مسلمان کے لئے حلال نہیں سوائے اس صورت کے جب وہ اندر سے راضی ہو۔ ‘‘

عزیزو! اس مہینے میں خداوند عالم کے دیدار کے لئے تیاری کیجئے اور اپنی عقل اور قلب کے ساتھ خداوند عالم سے نزدیکی اختیار کیجئے۔ تاکہ قیامت کے دن بھی اس کا قرب حاصل کر سکیں‘ وہ دن جب پکارا جائے گا کہ:

لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ (آج کس کی بادشاہی ہے؟ ) اور جواب آئے گا:

لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ (اللہ واحدقہار کی۔سورۂ غافر۴۰۔آیت۱۶)

زندگی کے ہر میدان میں اسکی توحید کے قائل ہویئے اور کسی اور کی رضا و خوشنودی کے لئے نہیں‘ بلکہ پروردگارِ عالم کی رضا و خوشنودی کے لئے عمل کیجئے‘ کیونکہ اسی عمل میں ہر قسم کی خیر و سعادت اور نیک انجام پوشیدہ ہے۔

خداوند عالم سے دعا گو ہیں کہ (اس ماہ میں) ہمیں روزہ رکھنے‘ تلاوتِ قرآن کرنے اور توبہ کی توفیق عنایت فرمائے۔

***